کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے تاہم تعمیرشدہ گھروں کو مسمار کرنے سے پہلے متبادل فراہم کیا جائے۔ لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جائے افسران کی کرپشن کی وجہ سے غیر قانونی گھر بنے۔ وفاقی حکومت ریلوے کی زمین پر گھروں کے مکینوں کو متبادل دے۔ کراچی میں بڑے پلازہ اور سوسائٹیز بنتی رہیں لیکن کسی نے نہیں پوچھا۔ افسران اہلکار پیسے لیکر تعمیرات کراتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ کنور نوید جمیل نے مزید کہا کہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیر شدہ گھروں کو مسمار کرنے سے پہلے متبادل دیں۔ افسران کی کرپشن کی وجہ سے غیر قانونی گھر بنے۔ وفاقی حکومت ریلوے کی زمین پر گھروں کےمکینوں کو متبادل دیا جائے بے گھر کرنے کے بجائے متبادل دیا جائے۔ شہر میں جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔ جن افراد نے قبضے کرواۓ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے غیر قانونی پلازہ بنتے رہے لیکن کسی نے نہیں پوچھا۔ سوال اٹھاتا ہوں کہ مئیر کراچی حکومت سندھ اور رینجرز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کے ایم سی کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے مئیر کہہ رہے ہیں کہ زمین کو قابضین سے بچایا جائے مئیر کو نہ تو کوئی اختیار دیا ہے اور نہ ہی کوئی فورس دی ہوئی ہے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ اینٹی انکروچمنٹ فورس کو قبضہ چھڑانے کے لئیے آرڈر کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ چیف جسٹس ڈائریکشن جاری کریں کہ جو بھی سیاسی شخصیات اور افسران تجاوزات کی سرپرستی کرتے رہے انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے کے افسران اربوں روپے کی کرپشن کر کے آج ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی عمارتیں، سوسائٹی بنتی رہی کسی نے نہیں پوچھا افسران اور اہلکار پیسے لیتے رہے اور تعمیرات کراتے رہے کروڑ پتی ہونے والے افسران ملک کے اندر اور باہر کاروبار کر رہے ہیں یہ سارے محکمے صوبائی یا وفاقی ہوتے ہیں۔ وفاق نے ویسے ہی 50 لاکھ گھر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا نعرہ بھی روٹی کپڑا مکان ہے جن کے گھر افسران کی کرپشن کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں پہلے انکو گھر دئیے جائیں۔ لیاری ایکسپریس وے پر 28 ہزار خاندانوں کو آرام سے شفٹ کیا گیا دوبارہ یہی طریقہ کار اپنایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پر چائنہ کٹنگ کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہے مئیر کراچی نے تجاوزات ہٹائی ہے بغیر عدالتی احکامات کے یہ نہیں ہو سکتا تھا پولیس اور رینجرز ان کو دی گئی میرے اوپر مقدمہ بنا جو جھوٹا تھا۔
![]()