ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) سرکلر روڈ آشیانہ شاپنگ سنٹر کے قریب میڈیکل سٹور میں بہوشی کی حالت میں پایا جانے والا قرطبہ یونیورسٹی دیرہ بی ایس انگلش ڈیپارٹمنٹ کا بیس سالہ طالبعلم ہسپتال میں دم توڑ گیا، نوجوان طالبعلم کی پراسرار موت نے پولیس کو چکرا کر رکھ دیا، نوجوان کی موت باڈی بلڈنگ کلب میں سٹیرائیڈ، آئس کلب میں آئس نشہ کا زیادہ استعمال، زہرخوردنی، قتل یا کچھ اور پولیس کے لئے معمہ بن گیا، لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کرکے مزید تحقیقات کے لئے جسمانی اعضاء کے نمونے فرانزک لیبارٹری کو ارسال کردیئے گئے، پولیس نے واقعہ کے مختلف پہلو پر تحقیقات شروع کردیں، پولیس ذرائع کے مطابق سرکلر روڈ آشیانی شاپنگ سنٹر کے قریب واقع میڈیکل سٹور کے اندر بہوشی کی حالت میں بیس سالہ نوجوان نعمت اللہ ولد دوست محمد قوم محسود سکنہ برکی ٹاﺅن کے بہوشی کے حالت میں پایا گیا جس کی اطلاع پر پولیس فوری وہاں پہنچ گئی اور نوجوان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے دوران وہ جاںبحق ہوگیا۔ متوفی کے قریبی ذرائع کے مطابق نوجوان قرطبہ یونیورسٹی میں بی ایس انگلش فسٹ سمسٹر کا طالبعلم تھا، وہ اتوار کو دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلا اور بعدازاں وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ اہل خانہ اسے تلاش کرتے رہے لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا۔ نوجوان کے لاپتہ ہونے کے دوسرے روز وہ سرکلر رروڈ پر واقع آشیانہ شاپنگ سنٹر کے قریب میڈیکل سٹور میں بہوش پایا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس فوری موقع پر پہنچ گئی اور اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے دوران ہی وہ جاںبحق ہوگیا۔ متوفی نوجوان کا پوسٹ مارٹم کرکے لاش ورثا کے حوالے کردی گئی، ذرائع کے مطابق نوجوان نے باڈی بلڈنگ کے لئے جم کلب جائن کر رکھا تھا تاہم نوجوان کی پراسرار موت کی وجہ باڈی بلڈنگ کلب میں سٹیرائیڈ کا استعمال، آشیانہ شاپنگ سنٹر میں آئس کلب کے اندر آئس نشہ کی زیادہ مقدار کا استعمال، زہر خوردنی، قتل یا کچھ اور سبب پولیس کے لئے معمہ بن گیا، ڈاکٹر نے نوجوان کی موت کی وجوہات کی جانچ کے لئے اس کے مختلف جسمانی اعضاء کے نمونے حاصل کرکے انہیں فرانزک لیبارٹری کو ارسال کردیئے ہیں۔پولیس نے زیر دفعہ 174 کی دریافت رپورٹ درج کرکے واقعہ کے مختلف پہلو پر تحقیقات شر وع کردیں ہیں۔ واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم باڈی بلڈنگ کلبوں میں کثرت کے ساتھ نوجوانوں کو خطرناک سٹیرائیڈ کا استعمال کرایا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب آشیانہ شاپنگ سنٹر میں طویل عرصہ سے قائم آئس کلب کے اندر کھلے عام آئس نشہ کی فروخت جاری ہے، ان انتہائی بااثر مالکان کے خلاف پولیس کی موثر کاروائی نہ ہونے کے باعث نوجوان نسل تباہی سے دوچار ہورہی ہے۔ ذرائع کے مطابق غالب گمان یہی کیا جارہا ہے کہ سٹیرائیڈ کی کثرت یا پھر آئس کلب میں آئس نشہ کی زیادہ مقدار کے باعث نوجوان کی حالت خراب ہونے پر میڈیکل سٹور کے اندر بہوشی اس کی موت پر منتج ہوئی۔
![]()