Home / اہم خبریں / ایس ایس پی عمرکوٹ نے خود ہی تفتیش کرکے خود کو بے گناہ ثابت دکھا کر کیس کا چالان پیش کیا تھا عدالت نے کیس کی دوبارہ تفتیش کے لئے کراچی منتقل کر دیا۔ حلیم عادل شیخ

ایس ایس پی عمرکوٹ نے خود ہی تفتیش کرکے خود کو بے گناہ ثابت دکھا کر کیس کا چالان پیش کیا تھا عدالت نے کیس کی دوبارہ تفتیش کے لئے کراچی منتقل کر دیا۔ حلیم عادل شیخ

کراچی/ عمر کوٹ (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی سیشن کورٹ عمرکوٹ کہنری تھانے پر درج کیس کے سلسے میں پیشی پر عدالت میں پہنچے تھے۔ واضح رہے کہ 1 نومبر کو پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ تیزگام سانحہ کے شہداء کی نماز جنازہ کے کئے کنری آئے تھے، جہاں حلیم عادل شیخ و ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما جہانشیر جونیجو کی گاڑی کو ٹوڑ دیا تھا، جس کی پولیس نے ایف آئی آر نہیں کاٹی ہے بلکہ حلیم عادل شیخ پر جھوٹا اغوا کا مقدمہ بنا گیا تھا جس کی پیشی کے سلسے میں حلیم عادل شیخ آج سیشن کورٹ عمرکورٹ پہنچے، حلیم عادل شیخ پر حملے کی ایف آئی آر عدالت کی حکم پر درج کی گئی تھی، عدالت کے حکم پر صوبائی وزیر نواب تیمور ٹالپر، ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ، ٹاؤن چیئرمین و دیگر کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی تھی ملزم ایس ایس پی کی جانب سے کیس کی تفتیش کی گئی تھی اور کیس کو جھوٹا قرار دیگر جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس جمع کرایا تھا جس پر گزشتہ جوڈیشنل مجسٹریٹ کنری نے بے گناہی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کو دوبارہ تفتیس کے لئے کراچی منتقل کر دیا، دوبارہ کیس کو 14 دن میں تفتیش مکمل کرنے کے لئے کراچی ایسٹ پولیس کو بھجوا دیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا مجھے افسوس ہے کہ جب میں ایک نماز جنازہ میں شرکت میں کنری آیا تھا مجھ پر حملہ کروایا گیا۔ صوبائی وزیر نے سندھ سرکار کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے مجھ پر ایف آئی آر درج کرائی سندھ کی روایات کو توڑتے ہوئے صوبائی وزیر اور ایس ایس پی نے اپنے ہی علاقہ میں حملہ کروایا ہماری ایف آئی آر کنری پولیس نے نہیں کاٹی تھی اور ہمیں عدالت جانا پڑا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج عمرکوٹ سے میرے پرائیوٹ سیکریٹری لال محمد نے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے رجوع کیا تھا عدالت کے حکم پر صوبائی وزیر نواب تیمور ٹالپر، ایس ایس پی عمرکوٹ، ٹاؤن چیئرمین شکیل باجوہ و دیگر پر بھی ایف آئی آر درج ہوئی، ایف آئی آر میں ایس ایس پی عمرکوٹ نامزد ملزم تھے لیکن تفتیش بھی ان کی سربراہی میں کی گئی، کنری پولیس نے ہمارے کیس میں جھوٹے گواہ پیش کر کے سب کو بے گناہ قرار دلوایا تھا جس میں ہمارے وکلا نے عدالت سے دوبارہ رجوع کیا تھا، گزشتہ روز جوڈیشنل مجسٹریٹ نے پولیس کے چالان کو رد کر دیا ہے ہمارا کیس عدالت نے دوبارہ ایس ایس پی ایسٹ تنویر عالم اوڈھو کو تفتیش کے لئے منتقل کر دیا ہے۔ ہمیں عدالتوں پر پورا اعتماد ہے دوبارہ تفتیش کے لئے کیس منتقل کیا ہے ہم تو عدالتوں میں چکر لگا رہے ہیں جنہوں نے زیادتی کی ہے ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ میری آواز بند کرنے کے لئے مجھ پر حملہ کروایا گیا لیکن حق کے لئے اٹھنے والی زبان کبھی بند نہیں ہوسکتی ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایبٹ آباد میں آئی ٹی ایف–پی ٹی ایف وہیل چیئر ٹینس کوچنگ کیمپ کا آغاز

ایبٹ آباد، (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) اور انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے