کراچی (رپورٹ: عمران عاطف چوہدری) ہم تم کو نہیں بھولے، آج سے پانچ برس قبل سرزمین پاک کے گلشن کی 132 معصوم کلیوں سمیت 12 پھولوں کو ملک دشمن دہشت گردوں نے اپنی سفاکانہ جارحیت کا نشانہ بنایا تھا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کو آج پانچ برس بیت گئے۔ بزدل دہشتگردوں نے سانحے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد کو شہید کیا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہیں۔ آرمی پبلک اسکول کے قیامت خیز سانحے کو گزرے پانچ سال ہوچکے ہیں۔ سانحے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد شہید ہوئے۔ علم کے متلاشی معصوم بچوں نے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کر کے ساری قوم کو دہشتگردوں کے خلاف ایک کردیا۔ معصوم فرشتہ صفت بچوں نے شجاعت اور بہادری کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ پوری قوم رہتی دنیا تک ان کی بہادری پر فخرکرے گی۔ پھول جیسے بچوں نے دہشتگردوں کے سفاکانہ وار اپنے سینوں پر جھیل کر دہشتگردوں کو باور کروا دیا کہ قوم کا بچہ بچہ کسی جانباز سپاہی سے کم نہیں۔ موت و زیست کے اس معرکے میں عظیم داستانیں رقم ہوئیں۔ دہشتگرد شکست کھا گئے جبکہ وہ 144 چہرے آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ اسکول سے دہشتگردوں کا صفایا ہونے تک شام درآئی تھی۔ آرمی نے اسکول سے اسٹاف اور طلبہ سمیت کل 960 افراد کو بچا کر باہر نکالا تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی ملک سوگ کی کیفیت میں تھا مگر آرمی پبلک اسکول کے بہادر معصوم سپاہیوں نے اپنے خون سے قوم کو ایک کردیا۔
![]()