ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں کروڑوں روپے کے غبن کے میگا کرپشن سیکنڈل کو دبانے کے لئے اہم فائلوں کی چوری کی ایف آئی آر کے اندراج میں ناکامی کے بعد آتشزدگی کے ڈرامہ کو بے نقاب کرنے کے لئے پشاور سے فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی، خٹک کی انکوائری، خٹک فنانس ڈائریکٹر کے حوالے، شفاف تحقیقات میں قومیت آڑے آگئی، کھانے اور حلولے کے ڈبوں نے چمتکار دکھانا شروع کردیا، غیر جانبدارانہ انکوائری پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے، شہری حلقوں کا شدید احتجاج، اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف انکوائری کا مطالبہ۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ اسماعیل خان میں اب تک کی تاریخ کے سب سے بڑے کروڑوں روپے کے غبن کا میگا کرپشن سکینڈل منظر عام پر آنے اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے دفتر سے دن دیہاڑے اہم ریکارڈ کے چوری ہونے کے بعد چوری کی ایف آئی آر درج کرانے میں ناکامی کے بعد ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں آتشزدگی کے ذریعے اہم فائلوں کے ضائع ہونے کا ڈرامہ رچایا گیا جسے بے نقاب کرنے کے لئے فنانس ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈائریکٹر فنانس کی سربراہی میں ایک اور تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی جوکہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی اور اس نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں قیام کیا، مبینہ ذرائع کے مطابق کرپشن میں ملوث خٹک ڈسٹرکٹ کم پٹرولر ڈیرہ کی کرپشن کی تحقیقات کے لئے خٹک فنانس ڈائریکٹر کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی جسکے ذریعے شفاف تحقیقات میں قومیت آڑے آگئی اور اپنے قومی بھائی کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوششیں شروع کردی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم کے دورے کے دوران انواح و اقسام کے کھانوں اور حلوے کے ڈبوں نے بھی خوب اپنا رنگ جمایا ہے۔ اس تمام صورتحال میں ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں ہونے والے اب تک سب سے بڑے میگا کرپشن سیکنڈل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں جس پر شہری حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ کم پٹرولر ڈیرہ کے خلاف کرپشن کی شکایات پر اکاﺅنٹینٹ جنرل خیبرپختونخوا نے ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ میں ریکارڈ کی چھان بین کے لئے آڈٹ ٹیم مقرر کی۔ اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے افسران کی کرپشن منظر عام پر آنے کے بعد افسران میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے علاوہ نیب، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے کی جانب سے چھاپوں کے دوران ریکارڈ کو قبضہ میں کرنے کے خدشہ کے باعث اہم ریکارڈ کو غائب کرنے کا بڑا منصوبہ بناتے ہوئے ریکارڈ کے چوری ہونے کا ڈھونگ رچایا جوکہ کینٹ پولیس نے بے نقاب کرکے ناکام بنادیا۔ ڈیرہ پولیس کی جانب ڈی ایس پی سٹی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی جس نے چوری شدہ ریکارڈ کے حوالے سے مزید تحقیقات اور چھان بین کرکے اکاﺅنٹ آفس ڈیرہ کے کم پٹرولر آفسیر سمیت دیگر اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا اور بعدازاں ایف آئی آر کے اندراج کی بجائے اس کیس کو اینٹی کرپشن ڈیرہ اسماعیل خان کے حوالے کردیا گیا۔
![]()