Home / اہم خبریں / دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا دن منایا جانا اور پاکستان میں حکومت کی جانب سے کینسر کے سد باب کے لئے جی ایم اوز بیجوں پر پابندی عائد نہ کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اقبال ہاشمی و طارق چاندی والا

دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا دن منایا جانا اور پاکستان میں حکومت کی جانب سے کینسر کے سد باب کے لئے جی ایم اوز بیجوں پر پابندی عائد نہ کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اقبال ہاشمی و طارق چاندی والا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی اور نائب صدر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہدایات کے تحت دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا دن منایا جانا اور پاکستان میں حکومت کی جانب سے کینسر کے سد باب کے لئے جی ایم اوز بیجوں پر پابندی عائد نہ کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ دنیا کے 70 فیصد ترقی یافتہ ممالک نے جی ایم اوز کو مہلک جان کر پابندی لگا دی ہے۔ کینسر سے آگاہی کے ایام منانا اچھی بات ہے اور اس کے علاج کیلئے ہسپتال اور ادارے قائم کرنا بھی بہت ضروری ہے لیکن سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ سبزیوں، دالوں، پھلوں اور درختوں کے لیب میں تیار کئے گئے مصنوعی بیجوں جی ایم اوز پر کڑی پابندی عائد کی جائے اور اس کی تجارت منسوخ قرار دی جائے۔ جی ایم اوز انسانوں میں فالج، کینسر، جگر اور معدے کے مہلک امراض پیدا کر رہے ہیں۔ تین چار فصلوں کے بعد کسانوں کی قیمتی اور زرخیز زمینوں کو بنجر کر دیتے ہیں۔ جن کھیتوں میں جی ایم اوز بیج بوئے جاتے ہیں وہ پھر کسی اور فصل کی کاشت کے قابل نہیں رہتے۔ اقبال ہاشمی اور طارق چاندی والا پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ گلشن اقبال میں عالمی سطح پر کینسر کی آگاہی کے دن کے حوالے سے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ طارق چاندی والا نے کہا کہ کینسر ذومعنی لفظ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کینسر جو جسمانی بیماری کا نام ہے اور دوسرا کرپشن اور بد عنوانی کا کینسر جو ہمارے ملک کی اشرافیہ کی رگوں میں سرائیت کر چکا ہے۔ آج اس کینسر کو علاج کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ ملک کے تقریبا تمام ادارے اس مرض میں بری طرح مبتلا ہیں۔ خاص طور پر وہ ادارے جو براہ راست عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں وہ اس مرض کا بری طرح شکار ہیں۔ اقبال ہاشمی نے کہا کہ بڑے بڑے جاگیردار، سیاستدان، سرمایہ دار اور اشرافیہ بشمو ل وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے فارم ہاؤسز میں قدرتی بیجوں سے فصلیں اور پھل اگاتے ہیں۔ دوسری جانب غریب کسانوں اور عوام کو جی ایم اوز بیجوں پر کھلی چھوٹ دے کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جی ایم اوز مستقبل کی حیاتیاتی جنگ کے تحت کمزور ملکوں کو زیر کرنے کی عالمی استعماری مہم کا حصہ ہیں۔ پی ٹی آئی کے چوٹی کے عہدیداران میں جی ایم اوز کی پاکستان میں تجارت کرنے والے افراد موجود ہیں۔ پاسبان رہنماؤں نے مزید کہا کہ جی ایم اوز کاشت کرنے والی زمین چند فصلوں کے بعد کاشت کے قابل نہیں رہتی اور اگر اس میں قدرتی بیج بوئے جائیں تو پھر ان کو بھی قبول نہیں کرتی۔ پہلی فصل میں پیداوار کے اضافہ کے اگلے ہی برس کسان کا زوال شروع ہو جا تا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، پڑوسی ملک بھارت میں کسان جی ایم اوز بیجوں کی کاشت سے مفلس، قلاش اور قرضدار ہو کر تباہ ہو چکے ہیں۔ بھارت میں ہزاروں کسانوں کی خودکشیوں سے آخر سبق کیوں نہیں سیکھا جا رہا؟ پاسبان رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاسبان جی ایم اوز بیجوں کے خلاف آگاہی مہم تیز کر رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کی حفاظت کیلئے جی ایم اوز بیجوں کی تیاری میں ملو ث ممالک کے خلاف کاروائی کی جائے۔ پاکستانی قوم سے استدعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہ حیثیت قوم یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کینسر سے آگاہی کے عالمی دن کو بطور بیماری منانے کے ساتھ کرپشن اور بدعنوانی کے کینسر کے خاتمے کے آغاز کا دن بھی منائیں۔ پوری قوم متحد ہو کر کینسرکی بیماری اور کرپشن کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاسبان کی جدوجہد میں شامل ہو جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے