کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ وفاقی محکموں میں 14562 ارب روپے کی کرپشن کے انکشاف نے پوری قوم کو حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کرپٹ سیاستدانوں، الیکٹ ایبلز، وڈیرہ شاہی اور بد عنوان بیورو کریسی کی ملی بھگت کو توڑے بغیر کرپشن سے پاک پاکستان کا خواب حقیقت میں نہیں بدل سکتا۔ نواز شریف اور زرداری دو ر حکومت میں کرپشن سے ہاتھ رنگنے والے بڑے مجرموں کو سزامیں تاخیر سے عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ وفاقی محکموں میں مالی کمزوریوں، قوانین کی خلاف ورزیوں اور بے ضابطگیوں کے مرتکب افراد کو قانون کے شکنجے میں لا کر کسا جائے۔ مسجد میں 500 روپے کی مالیت کی جوتی چوری کرنے والوں کا منہ کالا کرنے اور قومی خزانے سے اربوں کھربوں روپے ڈکارنے والوں کو اقتدار کے ایوانوں میں سروں پر بٹھانے کی روش ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ قومی خزانے کے 14 ہزار 562 ارب روپے کی خطیر رقم میں مالی کمزوریاں، قوانین کی خلاف ورزیاں اور بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ قوم کو بتایا جائے کہ وہ بقایا وزارتیں کون سی ہیں جن کی آڈٹ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی؟حد سے زیادہ ادائیگیوں کا معاملہ ازحد تشویشناک ہے۔ عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور عوام کی اس کمائی پر بے دردی سے سرکاری افسران اور سیاستدانوں کی ناپاک ملی بھگت سے ڈاکے ڈالے جارہے ہیں۔ کیا پاکستان اب بھی خزانہ چوروں، ڈاکوؤں اور کرپٹ عناصر کے لئے جنت ہے؟ الطاف شکور نے کہا کہ کرپشن کے کیسز میں ذرائع آڈٹ کی نشاندہی پر محض 4 ارب90 کروڑ روپے کی رقم واپس لائی گئی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستا ن کی رپورٹ پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں تو وہی الیکٹ ایبلز، وڈیرے، جاگیردار اور سرمایہ دار بیٹھے ہوتے ہیں جو پہلے پی پی پی پھر پی ایم ایل این اور اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے جیت کر اسمبلیوں میں موجود ہیں تا کہ لوٹ مار کے پیسے کا دفاع کرسکیں۔ الطاف شکور نے مطالبہ کیا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سپریم کورٹ کو بھجوائی جائے تا کہ قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی گرفت کی جا سکے۔
![]()