اسلام آباد (بیورو رپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے قلب کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ انسولین کی مقدار کیلئے ان کے شوگر لیول کو بھی مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ نوازشریف جیل کے ماحول کی وجہ سے اسٹریس کا شکار ہیں۔ جیل میں بھی ان کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اندر گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں۔ نواز شریف کی جولائی 2018ء سے مارچ 2019ء تک کی نوازشریف کی میڈیکل ہسڑی بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ تمام میڈیکل رپورٹس کے مطابق نواز شریف کا ذہنی تناؤ بہت زیادہ ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جیل میں کوئی بھی ہو ذہنی تناؤ تو ہوسکتا ہے۔ خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف کی سزا معطل کر کے بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے۔ خواجہ حارث کے دلائل کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں بھی لکھا ہے کہ ان کی صحت نارمل ہے۔ ان کے جو ٹیسٹ پیش کیے گئے وہ سزا معطلی کے دوران کے ہیں، اس لیے نواز شریف کو ضمانت پر رہا نہ کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نیب کی اپیل منظور کرلی۔
![]()