اسلام آباد (بیورو رپورٹ) فرشتہ قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری مکمل کرلی گئی۔ رپورٹ میں ایس ایچ او، تفتیشی افسر و دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فرشتہ کے اہلخانہ سے تھانے میں پولیس کا رویہ نامناسب تھا۔فرشتہ قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔ جوڈیشل انکوائری اے ڈی سی جی وسیم احمد نے کی۔ جوڈیشل انکوائری میں فرشتہ کیس سے جڑے تمام افراد کے بیانات لیے گئے۔ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ میں ایس ایچ او، تفتیشی افسر و دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کردی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرشتہ کے اہلخانہ سے تھانے میں پولیس کا رویہ نامناسب تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تاخیر کا ذمہ دار پولی کلینک کا میڈیکولیگل آفیسر نہیں، رات کے وقت میڈیکولیگل آفیسر کی اسپتال میں ڈیوٹی ہی نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں تاخیر کی وجہ بھی میڈیکولیگل افسر کی رات میں ڈیوٹی نہ ہونا تھی۔ ننھی فرشتہ کی نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کرنے اور لسانی تعصب کے خلاف نعری بازی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے خلاف لسانی تعصب کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پولیس، علاقہ مکینوں یا ضلعی انتظامیہ نے لسانی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔
![]()