راولپنڈی (بیورو رپورٹ) ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ آج صبح خرقمر چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث محسن جاوید اورعلی وزیر کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے تین دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ محسن جاوید اورعلی وزیر کی قیادت میں گروہ نے شمالی وزیر ستان کے شہر دتہ خیل میں واقع خرقمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا، حملے کا مقصد کچھ ممکنہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو رہا کروانے کیلئے دباﺅ ڈالنا تھا جنہیں ایک روز قبل ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آج محسن داوڑ اور علی وزیر کے ہمراہ گروہ نے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ اہلکارشدید زخمی ہوئے تاہم جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ دس زخمی ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تمام زخمیوں کو آرمی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعہ پر علی وزیر سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم محسن داوڑ فرار ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ساتھیوں کے ہمراہ میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور چیک پوسٹوں پر موجود جوانوں کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔
محسن داوڑ نے ساتھیوں کو چیک پوسٹوں پر موجود جوانوں کے خلاف اکسایا جس کے بعد محسن داوڑ نے ساتھیوں کے ہمراہ میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور چیک پوسٹوں پر موجود جوانوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
![]()