راجن پور (رپورٹ: انعام باری) تبدیلی سرکار و پنجاب حکومت کی علم و تعلیم دشمن پالیسیوں کے باعث پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے ہزاروں اسکولوں کو گزشتہ تین ماہ سے فنڈز ریلیز نہ کر کے لاکھوں اساتذہ و پیف اسکول مالکان کے گھروں کے چولھے بند کرکے ان پر عرصہ حیات مزید تنگ کردیا ماہ مقدس رمضان المبارک کے فیوض و برکات اور عیدالفطر کی خوشیوں میں بھی شمولیت سے محرومی کے خطرات منڈلانے لگے رشتہ داروں، دوستوں، عزیز و اقارب و دکان داروں نے ادھار دینا بھی بند کر دیا جس سے بچوں کا تعلیمی مستقبل بھی تاریک ہونے کے شدید خطرات لاکھوں پیف اسکول اساتذہ طلباء و طالبات و پیف پارٹنر مالکان میں تشویش کی شدید لہر اعلیٰ عدلیہ چیف جسٹس آف پاکستان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری پیف پارٹنر اسکول کے فنڈز و تنخواہیں دیگر مراعات بلاتعطل جاری کرانے کا پرزور مطالبہ تفصیلات کے مطابق جب سے صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے اور اب تک مسلسل پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن پیف کے زیرانتظام چلنے والے پیف و دیگر اسکولوں کے ماہانہ تنخواہیں 550 روپے فی طالبعلم مقرر ہیں اسے روکا جا رہا ہے جس سے لاکھوں اساتذہ کے گھروں کے چولھے بجھ جانے کے باعث نوبت غربت و فاقہ کشی تک جاپہنچی ہے لوگوں دکانداروں دوستوں و رشتہ داروں نے ادھار دینا بھی بند کر دیا ہے لاکھوں اساتذہ طلباء و طالبات ان کے والدین تعلیمی سماجی حلقوں پیف اسکول مالکان نے اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم سے فوری فنڈز ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے اس طوفانی دور میں ان کے گھروں کے چولھے روشن ہو سکیں اور وہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی برکتوں و رحمتوں سے بھی مستفید ہوں اور عیدالفطر کی خوشیوں میں بھی شامل ہو سکیں۔
![]()