تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پاکستان کے روینیو میں انشورنس کا بڑا حصہ ہے، گذشتہ برس انشورنس کمپنیوں نے 16 بلین روپے ٹیکس ادا کیا۔ طاہر احمد جوبلی جنرل انشورنس

پاکستان کے روینیو میں انشورنس کا بڑا حصہ ہے، گذشتہ برس انشورنس کمپنیوں نے 16 بلین روپے ٹیکس ادا کیا۔ طاہر احمد جوبلی جنرل انشورنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) انشورنس کے عالمی دن کے موقع پر جوبلی جنرل انشورنس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو طاہر احمد نے کہا کہ بڑے ممالک میں 8 سے 9 فیصد افراد کی انشورنس ہوتی ہے کیونکہ وہاں انشورنس کروانے کا رجحان زیادہ ہے جبکہ ریجنل ممالک میں محض 3 سے ساڑھے 3 فیصد لوگوں کو انشورنس سے متعلق آگاہی حاصل ہے، پاکستان کے روینیو میں انشورنس کا بڑا حصہ ہے، گذشتہ برس انشورنس کمپنیوں نے 16 بلین روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ ایف آئی ایف کی مد میں حکومت کو 1 فیصد ٹیکس دیا جاتا ہے، پاکستان میں انشورنس کروانے کی کی شرح 0.92 فیصد ہے جوکہ بہت کم ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ طلباء و طالبات کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ انھیں تعلیمی مراحل طے کرنے میں یقینی مدد فراہم کی جاسکے، طالبعلموں سمیت شہریوں کی بہت بڑی تعداد انشورنس کے ذریعے حاصل ہونے والے فوائد سے لاعلم ہے علاوہ ازیں پیش آنے والے بے شمار صنعتی حادثات کے حوالے سے علم نہیں ہوتا کہ ان کے متاثرین کی مدد کی گئی ہے یا نہیں، دوران کام کسی مزدور کو چوٹ لگنے، بیماری یا اس کی موت ہوجانے کی صورت میں اہلخانہ کو انشورنس کی بدولت کچھ عرصے کے لیے مالی مدد مل جاتی ہے اور انھیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑتا ہے، دنیا بھر میں انشورنس کروانا ضروری سمجھا جاتا ہے ہر محنت کش کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے اس کے گھر والوں کو کیا کرنا ہوگا، دوسری انشورنس انوسمنٹ کی طرز پر ہے جس کے ذریعے ایک لاکھ روپے جمع کرنے والے کو حاصل کردہ پالیسی کے تحت اس سے زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے، انشورنس کے ذریعے ہر شخص کو خود کفیل بنا دیا جائے تو وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، پاکستان میں محنت کشوں کے لیے قانون تو موجود ہے تاہم انھیں انشورنس کے بارے میں بتایا نہیں جاتا ہے، انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں میں انشورنس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے موثراقدامات کیے جائیں۔ 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے