کوئٹہ (رپورٹ: شاہد عمران چشتی) کابلی گاڑیاں چمن بارڈر سے اکثر لوگوں نے اپنی جیپوں میں چھپا کر کوئٹہ لائے تھے اس لئے کسٹم کو مجبورا ان گاڑیوں کے خلاف کوئٹہ میں کاروائی کرنی پڑی یہ گاڑیاں نہیں کسٹم چیک پوسٹ چمن، شلا باغ اور نہ ہی بلیلی چیک پوسٹ سے گزر کر لائی گئی ہے اور نہ ہی کسٹم کی کسی اہلکار نے ان سے ایک روپے بطور رشوت لیا ہے یہ تمام گاڑیاں لوگ اپنی جیبوں میں چھپا کر لائے تھے جس کی خبر کسٹم حکام کو کوئٹہ میں ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے سمگلر کسٹم کوئٹہ اور چمن آفس میں کسی اہلکار کو نہیں جانتے نہ ہی کوئی ان سے تعلق رکھتا ہے کسٹم ایسے ملک دشمن عناصر کو بری نظر سے دیکھتا ہے اور دیکھتا رہے گا تمام سمگلر کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ کسٹم کے کوئٹہ آفس کے سامنے سے بھی گاڑی میں گزرنے کی ہمت نہ کرے کسٹم نے یہ سخت ہدایات جاری کیے ہیں۔
![]()