تازہ ترین
Home / اہم خبریں / اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں نے اس کا فائدہ اٹھالیا، لیکن سندھ کے حکمرانوں نے کراچی کو محروم رکھا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں نے اس کا فائدہ اٹھالیا، لیکن سندھ کے حکمرانوں نے کراچی کو محروم رکھا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں نے اس کا فائدہ اٹھالیا، لیکن سندھ کے حکمرانوں نے کراچی کو محروم رکھا۔ انتظامی ادارے بشمول صحت، ایجوکیشن، واٹر بورڈ، سالڈ ویسٹ اور دیگر ادارے 18ویں ترمیم کا فائدہ اٹھا کر سندھ حکومت نے اپنے اختیار میں لے لئے ہیں۔ اس ترمیم کی آڑ میں پیپلز پارٹی کراچی کو دیوار سے لگا رہی ہے۔ فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آئندہ کراچی کا مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔ کراچی کے نوجوان ڈیپریشن کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کا فائدہ مہاجروں اور سندھیوں کی قوم پرست تنظیمیں اٹھا رہی ہیں۔ کراچی کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے یکساں طور پر نہ صرف نظر انداز کیا ہے بلکہ برباد کیا ہے اور اب پی ٹی آئی بھی اسی روش پر گامزن ہے۔ چالیس چوروں والی جماعتیں کراچی سے مخلص نہیں ہیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کراچی کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ اس کے سہارے تمام اداروں پر پی پی پی کی حکومت قبضہ کر رہی ہے۔ کراچی سے کچرہ اٹھانے سے لے کر ہر اہم محکمہ سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ سالڈ ویسٹ ڈیپارٹمنٹ کراچی سے کچرااٹھانے کے بجائے نالوں میں پھینکتا رہا۔ سیوریج اور ندی نالوں پر آبادیاں بنا دی گئیں، جنہیں حکومت سندھ نے لیز کر دیا۔ صوبائی محتسب اعلی کو منتخب کرنے کا اختیار بھی ایک ایکٹ کے ذریعے وزیر اعلی کے پاس ہے یعنی چور ہی تھانیدار منتخب کر رہا ہے۔ میٹرک اور انٹر تک کی تعلیم کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد ہائی ایجوکیشن میں بدترین کرپشن کرنے کے لئے عجلت میں سندھ اسمبلی سے یونیورسٹی ترمیمی بل پاس کر کے اسے ایکٹ کی شکل دے دی گئی۔ کے بی سی اے کو ایس بی سے اے میں تبدیل کرنا اور اس طرح کے کئی اقدامات ہوئے جن سے کرپشن میں مزید اضافہ ہوگا۔ تین کروڑ سے زائد آبادی اور ستر فیصد سے زائد ملک کو ریونیو دینے والے شہر کو سارے ہی اسٹیک ہولڈرز نے مجرمانہ انداز میں نظر انداز کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر کراچی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے کراچی اور اس کے لوگوں کو بیچ دیا۔ کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ کراچی کے احساس محرومی کو مختلف سیاسی تنظیمیں اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں گی۔ حالانکہ کراچی میں کوئی ایک قوم نہیں بستی، مختلف زبانیں بولنے والی بہت سی قومیں بستی ہیں۔ صوبہ سندھ میں اٹھارویں ترمیم کا غلط استعمال کر کے اختیارات سلب کئے جا رہے ہیں۔ شہری سندھ خصوصا کراچی کے وسائل پر سندھ حکومت کا قبضہ ہے۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اس لئے اسے برباد کرنا براہ راست ملک کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔ الطاف شکور نے کراچی کی بہتری، تعمیر و ترقی کے لئے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور لاہور سمیت ایک کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے شہروں کو صوبائی دائرہ کار سے نکال کر چارٹر سٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ یہ شہر اٹھارویں ترمیم کی زد میں نہ آئے۔ جس طرح دنیا بھر کے بڑے ممالک اپنے زیادہ آبادی رکھنے والے شہروں کو زیادہ حقوق دیتے ہیں۔کراچی شہر کی اونر شپ لینے کے لئے کوئی تیار نہیں، اس لئے اٹھارویں ترمیم میں دوبارہ غور کرتے ہوئے ایک نئی ترمیم لائی جائے جس میں کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی حق دے کر بلدیاتی اداروں سمیت مکمل اختیارات حاصل ہوں۔ 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے