Home / اہم خبریں / جامعہ پشاور میں تین روزہ بین الاقوامی سوشل ورک کانفرنس شروع ہوگئی جس میں بیرونی دنیا سمیت اندرون ملک سے شرکاء، 78 مقالہ جات پڑھیں گے

جامعہ پشاور میں تین روزہ بین الاقوامی سوشل ورک کانفرنس شروع ہوگئی جس میں بیرونی دنیا سمیت اندرون ملک سے شرکاء، 78 مقالہ جات پڑھیں گے

پشاور (رپورٹ: اصغر خان) جامعہ پشاور میں تین روزہ بین الاقوامی سوشل ورک کانفرنس شروع ہوگئی ہے جس میں بیرونی دنیا سمیت اندرون ملک سے شرکاء، 78 مقالہ جات پڑھیں گے کانفرنس کے ابتدائی روز اپنے کلیدی خطاب میں مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان نے کہا ہے کہ سوشل ورک دنیا کے تمام علوم کو انسانی ترقی، سماجی انصاف اور فلاحی امداد کیلئے بروئے کار لاتا ہے جس سے انسانی تمدن و تجربات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں انہوں نے اس موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف سوشل ورکرز کے سیکرٹری جنرل روری جی ٹروئل کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ جامعہ پشاور کے دروازے علمی تعاون کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں اور اب ملکی سیکورٹی صورتحال بہتر ہونے پر ان جیسی کانفرنس منعقد ہو سکیں گی۔ عالمی کانفرنس جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک اور فلاحی ادارے "کمیونٹی ورلڈ سروس” کے مشترکہ کاوشوں سے ترتیب دیا گیا تھا جس  میں ملکی اور بین الاقوامی سکالرز اور کثیر تعداد  میں طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مرکزی میزبان شعبہ سوشل ورک ڈاکٹر شکیل احمد نے افتتاحی تقریر کے دوران مندوبین پر زور دیا کہ مثبت سماجی رویوں کو سماجی تبدیلی میں بدلنا ایک چیلنج ہے جس کیلئے وہ ہم تن تیار ہیں اس موقع پر انھوں نے کانفرنس کے مہتم ڈاکٹر محمد ابرار خان کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ابرار کی کوششوں سے کانفرنس کے انعقاد کو ممکن بنایا گیا ہے اس موقع پر جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر و بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ مائیکل برنٹ نے کہا کہ موجودہ صدی کی ترقی گزشتہ دو صدیوں کی سوشل ورک کی مرہون منت ہے کیونکہ انسداد غلامی کی تحریک سے لے کر آئی ای آر سی کا قیام سوشل ورکرز کی مرہون منت ہے اس موقع پر انھون نے مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کو غیر سیاسی وابستگی برقرار رکھنا پر زور دیا مائیکل برنٹ نے مزید کہا کہ موجودہ امریکی صدر کی امیگریشن مخالف سرگرمیوں نے سوشل ورکرز اور کمیونٹی ورکرز کو ایک پلیٹفارم پر لاکھڑا کیا ہے جس سے مثبت تبدیلیوں کا امکان ہے اس موقع پر افتتاحی نشست کے صدر اور پرو وائس پروفیسر جوہر علی نے کہا کہ موجودہ سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کی ترقی میں پروفیسر کرم الہی ، پروفیسر سارہ صفدر اور پروفیسر سید سجاد حسین شاہ کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے اس موقع پر انھوں نے سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ میں سوشل ورک کی حامل تعلیمی پس منظر رکھنے والی شخصیات کا نہ ہونہ کا سماجی ترقی اورانصاف پر پڑنے والے منفی اثرات پر افسوس کا اظہار کیا ۔کانفرنس کے ابتدائی سیشنز سے دیگر خطاب کرنے والی مہمان شخصیات میں پروفیسر سارہ صفدر ، شعبہ جرمیات پروفیسر بشارت حسین شانل تھے اس موقع پر دیگر اہم شرکاء میں رنا یونیورسٹی کابل سے وائس چانسلر ارشد خان، اقوام متحدہ سے زینب قیصر خان ، معروف سماجی کارکن جہانزیب خان اور اسلامک ریلیف سے حسین علی اعوان نے شرکت کی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے