میہڑ (رپورٹ: عبدالرحمان قمبرانی) کوٹری پولیس نے میہڑ کے علاقے رادہن کے قریب قربان آباد میں مسمات یاسمین گورڑ اور 4 سالہ بچی عائشہ کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے کرکے کے معاملے پر مسمات یاسمین گورڑ کی والدہ مسمات تهموراں زوجہ قمرالدین نے سیشن کورٹ دادو پہنچ کر درخواست دائر کردی جبکہ سیشن جج دادو نے ایس ایچ او تھرڑی محبت کو حکم ديا کہ کوٹڑی پولیس کے ایس ایچ او قربان علی قمبرانی، اے ایس آئی عثمان سولنگی، سجاد علی گورڑ اور اکرم علی گورڑ پر ایف آئی آر درج کر کے عدالت پيش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ دوسری طرف مسمات تہموراں زوجہ قمرالدین گورڑ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او رادہن منظور مستوئی نے کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا شام 4 بجے سے سائلہ مسمات تہموراں کو تھانے میں پر بٹھاکر 11 بجے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتے ہوۓ تھانے سے باہر نکال دیا۔ پولیس کے اس روئیے کے خلاف سائلہ مسمات تہموراں زوجہ قمرالدین گورڑ کی جانب سے احتجاج کرتے ہوۓ کہا گیا کہ پولیس نے کورٹ آف کنڈیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے یاد رہے کہ چند روز قبل پولیس نے بھاری نفری کے ہمراہ قربان آباد میں شمن علی گورڑ کے گھر میں داخل ہوکر خواتین اور بچوں پر تشدد کرتے ہوۓ گھر میں داخل ہوکر بلاجواز مسمات یاسیمن گورڑ اور اسکی 4 سالہ معصوم بچی عائشہ کو گرفتار کرکے غائب کر دیا ہے۔
![]()