میہڑ (رپورٹ: عبدالرحمان قمبرانی) میہڑ کے گاؤں قربان آباد میں کوٹری پولیس کی ناجائز تحقیقات کے بہانے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے کے بعد زیورات نقدی اور دو خواتین ریشما دختر غلام علی مسمات یاسمین گورڑ اور 4 سالہ عائشہ سمیت شوکت علی گدا حسین گورڑ کو گم کر دیا جبکہ کوٹری پولیس کے ایس عمل کے خلاف گرفتار ہونے والوں کے ورثہ شمن علی گورڑ، امیر علی بلاول، رمضان، عمران,، نزاکت، رستم گورڑ اور دیگر نے نیشنل پریس کلب میہڑ پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل کوٹری میں ایس پو پی رہنما ممتاز گورڑ کو قتل کیا گیا تھا جو ہمارا رشتے دار ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے بیگناہ پھنسایا جا رہا ہے جبکہ گزشتہ روز کوٹری پولیس کے ایس ایچ او قربان علی قمبرانی، اے ایس آئی عثمان سولنگی نے تحقیقات کے بہانے بلاجواز پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ قربان آباد میں شمن علی گورڑ کے گھر میں گھس کر خواتین اور بچوں پر تشدد کیا اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا خواتین کو بچانے کے لئے پہنچنے والے شوکت علی والد غلام نبی اور 14 سالہ گدا حسین والد شمن علی گورڑ کو بھی لاپتا کردیا ہے انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، آئی جی سندھ اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ کوٹری پولیس کے خلاف جائز اور مصفانہ انکوائری کرکے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ہمارے گرفتار ہوئے نوجوان اور خواتین کو فوری طور پر آزاد کیا جائے بصورت دیگر بھرپور احتجاج کریں گے۔
![]()