کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب کے زیر اہتمام ہونے والی آل سندھ میڈیا کانفرنس میں پیش کی گئی قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیمرا ویب ٹی وی لائسنسگ کی تجویز کو یکسر ختم کردیا جائے۔ پیمرا کے ویب ٹی وی کو لائسنس کرنے کے اقدامات بنیادی انسانی حقوق، جاننے کے حق اور معلومات تک رسائی کے حق کے منافی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ قدغن بھی مسترد کیا جاتا ہے۔ پیمرا کو خود مختار ادارہ بنایا جائے۔ جمعرات کو کراچی پریس کلب کی دعوت پر ہونے والی کانفرنس میں وکلاء، سندھ بھر کے پریس کلب نمائندوں، صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی اورمختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے پیمرا کی جانب سے ویب ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ چینلز کو لائسنسنگ کے مجوزہ قوانین کا جائزہ لیا اور ایوان نے باہمی بحث و تمحیص کے بعد ویب ٹی وی لائسنسگ اور پابندیوں کی مختلف تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔کانفرنس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور ویب کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی عوام کا اظہار رائے کے نئے پلیٹ فارم وجود میں آئے ہیں ویب ٹی وی کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی عوام اپنے مسائل سے متعلق کوئی قانون سازی یا کوئی قدغن نہیں ہے لہذا ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پیمر اویب ٹی وی لائسنسگ کی تجویز کو یکسرختم کردیا جائے۔ پیمرا کے ویب ٹی وی کو لائسنس کرنے کے اقدامات بنیادی انسانی حقوق، جاننے کے حق اور معلومات تک رسائی کے حق کے منافی ہیں۔ پیمرا میں کسی بھی ریگولیٹر کے بجائے براہ راست مالکان اور سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں ریگولٹیڈ ادارے براہ راست مالک یا سرمایہ کار کے اس شعبے کے ایک پروفیشنل سے رابطہ کرتے ہیں جوکہ متعلقہ ادارے میں بطور صدر یا چیف ایگزیکیٹو تعینات ہوتا ہے ایسا ہی عمل پاکستان میں اسٹیٹ بینک مالیاتی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے بھی کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایوان یہ سفارش کرتا ہے کہ پیمرا سٹیلائٹ چینلز کے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے پروفیشنل افراد سے رابطے کو یقینی بنایا جائے نیوز چینلز میں کہنہ مشق صحافیوں کو ڈائریکٹر نیوز تعینات کرکے ان سے رابطہ کیا جائے جس طرح پرنٹ میڈیا میں ایڈیٹر کی پوسٹ کو ختم یا بے جان کردیا گیا ہے، اسی طرح نیوز چینلز میں جان بوجھ کر ڈائریکٹر نیوز کا عہدہ مضبوط ہونے ہی نہیں دیا گیا، اسٹیٹ بینک جس طرح بینک کے صدر اور چیف ایگزیکیٹو کے عہدے کا تحفظ کرتا ہے اور مالکان کسی بھی بینک صدر کو بہ یک جنبش قلم نوکری سے فارغ نہیں کرسکتے ہیں اسی طرح ڈائریکٹر نیوز کی ملازمت کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔ پیمرا اس وقت وزارت اطلاعات و نشریات کے ماتحت کام کرتا ہے جبکہ جس وقت یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا وہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے ماتحت تھا۔ لہذا ایوان اس بات پر زور دیتا ہے کہ پیمرا کو خود مختار ادارہ بنایا جائے۔ سوشل میڈیا پہ قدغن کو بھی مسترد کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر جاسوسی اور اضافی فیس کے بوجھ کو مسترد کرتے ہیں، دنیا بھر میں الیکٹرانک میڈیا کو ٹیکنیکی معاونت جیسا کہ فریکوئینسی ایلوکیشن کے ادارے ہوتے ہیں پیمر ان کو بھی اس طرح صرف تیکنیکی معاملہ تک محدود کیا جائے۔ ایوان نے یہ محسوس کیا ہے کہ پیمرا اپنے تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے آزادی اظہار آزادی صحافت پر قدغن کا باعث بن رہی ہے موجودہ حکومت صحافیوں کو ان کے جائز و قانونی حقوق دلوانے میں ناکام رہی ہے، اور مالکان کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے بے روزگارکیا جارہا ہے اب تک ایک اندازے کے مطابق دس ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز بے روزگار ہوچکے ہیں اس کے علاوہ تنخواہوں میں غیرقانونی کٹوتی اور تنخواہوں میں کئی کئی ماہ تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع کے ضلعی نمائندگان کو دیا جانے والا معاوضہ چینل اور اخباری مالکان نے بند کردیا ہے جس سے ان صحافیوں کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے آج کا ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ سطح کے نمائندگان کے مشاہرے کو بحال کرے۔ سندھ بھر کے صحافی اور میڈیا ورکرز اپنے مطالبات پورے نہ کی صورت میں مرحلہ وار احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور وکلا کی مشاورت اور معاونت سے میڈیا پر پابندیوں بے روزگار کئے جانے کے بعد خلاف قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی۔ علاوہ ازیں کراچی پریس کلب میں ہونے والی سندھ میڈیا کانفرنس میں ایک علیحدہ قرار بھی منظور کی گئی جس میں کراچی پریس کلب کے رکن نصر اللہ چوہدری سمیت سندھ بھر میں میڈیا ورکرز پرقائم کئے گئے جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی، اور مطالبہ کیا گیا کہ تمام میڈیا ورکز پر بنائے گئے جھوٹے مقدامات فورا ختم کئے جائیں، قرارداد میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے مختلف پریس کلبز سے منسلک متعدد صحافیوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت سنگین دفعات بشمول بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی جیسی سنگین دفعات کے تحت کو مقدمات درج کیے گئے ہیں انھیں ختم کیا جائے، میڈیا کانفرنس میں کراچی پریس کلب کے رکن نصر اللہ چوہدری سمیت سندھ بھر کے دیگر صحافیوں کے خلاف قائم جھوٹے مقدمات کی بھرپور مذمت کی گئی اور مقدمات کو فوری طور پر ختم کرنے اور رہائی کا مطالبہ کیا گیا، میڈیا کانفرنس میں پیش کی گئی تمام قرارداد کو شرکاء نے کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے۔
![]()