Home / اہم خبریں / سٹی وارڈنز کیس سندھ حکومت عدالت میں جواب داخل نہیں کرا سکی، اگلی تاریخ تک جواب داخل نہ کرنے پر پاسبان کے وکیل کو سن کر فیصلہ دے دیا جائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ

سٹی وارڈنز کیس سندھ حکومت عدالت میں جواب داخل نہیں کرا سکی، اگلی تاریخ تک جواب داخل نہ کرنے پر پاسبان کے وکیل کو سن کر فیصلہ دے دیا جائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سٹی حکومت کراچی کے سٹی وارڈنز کو مئی 2018 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جونیئرز سٹی وارڈنز کو سیاسی بنیادوں پر مستقل ملازمت پر رکھنے کے خلاف اور تمام عارضی ملازمین کو مستقل ملازمت کی فراہمی کیس میں سندھ حکومت عدالت میں جواب داخل نہ کرا سکی۔ پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور کی ہدایت پر سٹی وارڈنز کی داد رسی کے لئے آئینی درخواست کی سماعت جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان الکریم پر مشتمل دو رُکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر معزز عدالت نے سندھ حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے اگلی تاریخ تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی، بصورت دیگر پاسبان کے وکیل کی بات سن کر متاثرہ سٹی وارڈنز کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ اس موقع پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکورنے میڈیا چوک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کے افسران کی کرپشن نے غریب ملازمین کے گھروں کے چولہے بجھا دیئے ہیں۔ پاسبان کے وکیل خرم لاکھانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ امید ہے کہ سٹی وارڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر ملازمت دے دی جائے گی۔ سٹی وارڈنز کی جانب سے ذمہ داران نے الطاف شکور سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاسبان نے ان سخت اور کڑے حالات میں ہماری داد رسی کی، جبکہ ہماری نوکریوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ہمارے اپنوں نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا  تھا۔ واضح رہے کہ سٹی وارڈنز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جونیئر سٹی وارڈنز کو مستقل کئے جانے کے خلاف پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی ہدایت پر سندھ ہائیکورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں متاثرہ سٹی وارڈنز کی جانب سے موٗقف اختیار کیا گیا تھا کہ 15 فروری 2010 کو ہمیں سٹی وارڈن میں عارضی طور پر ملازمت دی گئی اورہر سال ہماری ملازمت کی میعاد میں ایک سال تک کی توسیع کی جاتی رہی۔ ہم 2010 سے مستقل خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ عارضی ملازمت کو مستقل کرنے کا دلاسہ دے کر کراچی میونسپل کارپوریشن نے ہم سے ہماری خدمات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی، مگر 14 مئی 2018 سے ہماری تنخواہیں روک دی گئیں۔ سینئر سٹی وارڈنز کا مطالبہ ہے کہ ہماری تنخواہیں بحال کی جائیں اور ہمیں مستقل ملازمت فراہم کی جائے۔ گذشتہ سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس میں سندھ گورنمنٹ کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے