Home / اہم خبریں / کراچی پریس کلب کے باہر ڈی آئی جی عامرفاروقی اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے خلاف مظاہرہ اور پریس کانفرنس

کراچی پریس کلب کے باہر ڈی آئی جی عامرفاروقی اور ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے خلاف مظاہرہ اور پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ سرجانی بھینس کالونی کے سینئر نائب صدر ملک محمد نعیم، نائب صدرعبدالستار بلوچ، جنرل سیکریٹری محمد یونس، ملک محمد حنیف، اشرف قریشی، دانش قادری، اسلم ابڑو، ذیشان احمد، فیروز خان، حاجی لال گجر، صمدانی گجر، پپو مری، ظفر جمالی، حاجی اسلام، غلام محمد، ملک خوشی، سلیم میمن، محمد قاسم، عثمان گجر اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سرجانی میں چائنہ کٹنگ عروج پر تھی سیکٹر 9 بھینس کالونی سرجانی میں آکر بھی قبضہ کرنے کوشش کی گئی- سرجانی بھینس کالونی میں 146 انڈسٹریل پلاٹ ہیں جن پر قبضہ کی کوشش کی تو سرجانی بھینس کالونی کی قیادت حافظ احمد علی نے مزاحمت کرتے ہوئے سرکاری زمین بچائی۔ کچھ روز قبل سرجانی بھینس کالونی کے برطرف جنرل سیکریٹری ملک حیات جس کو عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا جوکہ کرپشن ڈکیتیاں اور بھتہ کی وصولی کرتا تھا، جس پر سرجانی ٹاؤن تھانے میں ایف آئی آر نمبر 434 سال 2012 ڈکیتی اور ایف آئی آر نمبر 381 سال 2012 بھتہ وصولی درج ہے ان مقدمات کے سبب جیل بھی جا چکا ہے اور دوسرا شخص قمبر عباس جو اپنے آپ کوعامر فاروقی کا بزنس پارٹنر کہتا ہے ایک سال قبل سرجانی بھینس کالونی میں باڑا کھولا اور سرجانی بھینس کالونی میں سرکاری ہسپتال کی جگہ ایس ٹی 2 پر قبضہ کرکے باڑا بنا لیا جس کی ہم نے کے ڈی اے کے اعلی افسران کو شکایت بھی کی، ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان اور ڈی آئی جی عامر فاروقی اس کے باڑے میں آکر بیٹھتے ہیں قمبر عباس المعروف عمران عباس نے سرجانی بھینس کالونی کے باڑے والوں سے جانور اور چارہ ادھار لیا ہوا ہے جب وہ اپنا قرض مانگتے ہیں تو وہ ان کو دھمکیاں دلواتا ہے اور چرس اور اسلحہ کے جھوٹے مقدمے بناکر انکو بند کروانا اس کا معمول بنا ہوا ہے، جس کی مثال محمد آصف ہے جو کہ بھینس کالونی کا ورکر ہے جس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی ان پولیس افسران نے اس کو گن مین بھی دیئے ہوئے ہیں قمبر عباس المعروف عمران عباس مختلف کیسوں میں متعدد بار جیل جاچکا ہے، ملک حیات نے بھینس کالونی میں کے الیکٹرک کے گرڈ اسٹیشن پر قبضہ کر کے باڑہ بنایا ہوا ہے، پولیس افسران کو اس کی شکایت کرتے ہیں مگر پولیس افسران سے تعلق کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی، بھینس کالونی میں پانی نا ہونے کی وجہ سے ٹینکر کے ذریعہ پانی آتا ہے بھینس کالونی کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ان دونوں کی خواہش ہے کہ یہ چوکیداری نظام ختم ہو جائے اور پانی کے ٹینکر آنے بند ہوجائیں ملک حیات کئی مرتبہ لوگوں سے تاوان کی رقم وصول کرچکا ہے عمران عباس نے جن لوگوں کو اپنے اور اپنی بیوی کے نام سے چیک دیئے ہوئے ہیں وہ بونس ہوچکے ہیں اعلی افسران سے تعلق ہونے کیوجہ سے سرجانی تھانے کی پولیس ان لوگوں کیخلا ف کوئی کاروائی نہیں کر رہی ان لوگوں کی سازش ہے کے جو پانی ٹینکروں کے ذریعہ آتا ہے وہ بھی کسی طریقہ سے بند ہوجائے تاکہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں اور ہم ان لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے سوسائٹیاں بنائیں ان کاموں میں رکاوٹ بھینس کالونی کے صدر حافظ احمد علی اور ان کے ساتھی ہیں جن کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان اور اسکے ساتھیوں نے بھر پور پلاننگ کی ہوئی ہے ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ہم چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف، وزیر اعظم، وزیر اعلی سندھ، گورنر سندھ، ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کیخلاف قانونی کاروائی کریں تاکہ بھینس کالونی کے مکین باآسانی اپنا کا روبار کر سکیں۔

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

سی ایم (CM) پنجاب مریم نواز کے نام مجبور باپ کی فریاد

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے