Home / اہم خبریں / کشمیری گذشتہ کئی دہائیوں سے نہتے ہونے کے باوجود بھارت کی نو لاکھ فوج سے لڑ رہے ہیں۔ صدر آزاد جموں و کشمیر کا یونیورسٹی آف کوالالمپور کے سٹی کیمپس میں کانفرنس سے خطاب

کشمیری گذشتہ کئی دہائیوں سے نہتے ہونے کے باوجود بھارت کی نو لاکھ فوج سے لڑ رہے ہیں۔ صدر آزاد جموں و کشمیر کا یونیورسٹی آف کوالالمپور کے سٹی کیمپس میں کانفرنس سے خطاب

کوالالمپور (رپورٹ: عامر وقاص چوہدری) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان جنگ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن ذرائع اور سیاسی و سفارتی طریقے سے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں لیکن بھارت عسکری طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد حاصل کرنے کے لئے اس نے کشمیریوں کو تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف کوالالمپور کے سٹی کیمپس میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ملائیشین کونسل برائے اسلامک آرگنائزیشن اور یونیورسٹی آف کوالالمپور نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ تقریب میں یونیورسٹی کے طلبہ کی بڑی تعداد اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ صدر آزاد کشمیر نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ کشمیر کے آزاد حصہ میں عوام آزادی کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں انھیں تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں جبکہ مقبوضہ حصہ میں غیر ملکی قبضہ ہے اور لوگ غلامی و جبر کی بیڑیوں میں جھکڑے ہوئے ہیں۔ 1947 میں بڑی تعداد میں کشمیریوں کو قتل کیا گیا اور یہ قتل عام دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی نسل کشی تھی۔ گذشتہ سال 5 اگست کے بعد اس علاقے پر بھارت نے ایک بار پھر حملہ کر کے پہلے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اب اس کو اپنی کالونی میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کو قتل اور زندگی بھر کے لئے معذور کیا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ انہیں اپنا پیدائشی حق حق خودارادیت مانگنے کے جرم میں کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آپ اپنے معاشرے، ملک اور عالمی برادری کا مستقبل ہیں اس وقت جب کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف دنیا خاموش ہے کہ آپ کا فرض ہے کہ آپ دنیا کو بولنے پر مجبور کریں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور مجبور انسانوں کا ساتھ دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ انسانوں کو اپنے ظلم و جبر کا شکار بنائے ہوئے ہے بلکہ وہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے اور پاکستان کے خلاف جنگ کے شعلے بھڑکانے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ ہم تصادم نہیں چاہتے بلکہ ہم امن، سلامتی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ہندوتوا کے نظریہ کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ انتہا پسندی کا یہ نظریہ گذشتہ صدی کے نازی اور فاشسٹ حکمرانوں کی یاد بھی دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں کا قلع قمع نہ کیا گیا تو کشمیر میں ویسا ہی قتل عام ہوگا جیسے گذشتہ صدی میں جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی کے مسولینی کے ہاتھوں ہوا تھا۔ طلبہ کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات ہمیشہ ناکام اور لاحاصل مشق رہی ہے کیونکہ بھارت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے فریق کے طور پر کبھی مذاکرات کی میز پر قبول نہیں کیا۔ کشمیریوں کو دنیا کے جرات مند ترین قوم قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیری گذشتہ کئی دہائیوں سے نہتے ہونے کے باوجود بھارت کی نو لاکھ فوج سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور حق خودارایت کی جدوجہد کبھی ترک کریں گے نہ ہی آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کی سیاسی و سفارتی حمایت چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں کو بچانا ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے