کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت صوبہ سندھ میں آئی جی کلیم امام اور دیگر اہم سرکاری عہدوں پر افسران کی تقرری کے معاملے میں میرٹ، اہلیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو شعار بنائیں۔ من پسند افراد کا تقرر کر کے اعلی ترین افسران کو دباؤ میں لے کر ذاتی مفادات کی تکمیل ایسا گھناؤنا عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ماضی کا یہ سلسلہ قومی مفاد میں اب ختم کر دیا جائے اور نئے آئی جی سندھ کی تقرری پر میرٹ، اہلیت اور قواعد و ضوابط پر شفاف طریقے سے عمل کیا جائے۔ سرکاری افسران کو وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی کی باہمی چپقلش سے دور رکھا جائے اور عوام کی خدمت کرنے دی جائے۔ ورنہ گُڈ گورننس کا خواب بھی حکمرانوں کے دیگر دعوؤں کی طرح سراب ثابت ہو گا۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کر دہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تقرری کے بعد حکومت سندھ نے قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالیں۔ من پسند ضلعی افسران کا تقرر کر کے حالات خراب کئے گئے جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے اور کام میں رکاوٹیں ڈالنے کا نوٹس لے لیا اور فیصلہ جاری کیا۔ اب آئی جی سندھ کلیم امام کی تبدیلی کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آگئی ہیں۔ پولیس کلچر کے ذریعے انتخابی سیٹوں کی بندر بانٹ اور اعلی سرکاری افسران کو اپنے دباؤ میں رکھ کر آئندہ انتخابات میں کامیابی کے خواب دیکھنے کا سلسلہ ایسا گھناؤنا عمل ہے جو اب بند ہو جانا چاہیئے۔ سندھ میں وفاق آئی جی تعینات کر دیتا ہے لیکن دیگر پولیس افسران کے تقرر کا اختیار وزیر اعلی کے پاس ہونا کھلا تضاد ہے۔ اقبال ہاشمی نے کہا کہ پولیس اور دیگر اعلی افسران عوام کے خادم ہیں۔ صوبہ میں امن و امان سمیت تمام معاملات کو میرٹ پر دیکھا جانا چاہیئے۔ من پسند افسران کی تقرری کے ذریعے جاری وفاقی ا ور صوبائی حکومتوں کی جنگ اب ختم ہوجانی چاہیئے۔ پیپلز پارٹی، متحدہ اور پی ٹی آئی ذاتی اور گروہی مفادات کے بجائے عوامی، قومی اور ملکی مفادات کی پاسداری کریں اور آئی جی کلیم امام کی تبدیلی کے معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کریں۔
![]()