ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یوٹیوب چینلز بنانے کے لیے بھی فیس مقرر کی جائے۔ پیش کردہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوب پر انٹرٹینمنٹ چینل بنانے کی فیس 50 لاکھ جبکہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے والے چینلز کی فیس ایک کروڑ تک رکھی جائے۔ پیمرا کی جانب سے تمام متعلقین سے اس بارے میں رائے طلب کی گئی ہے جس کی آخری تاریخ 14 فروری 2020 رکھی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے ہر ممکن کام کیا جا رہا ہے۔ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، اکثر صحافیوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا تو اکثر نے ٹی وی چینل چھوڑ کر یوٹیوب چینل کھولنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے حکومت کو اس سے بھی مسئلہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے یوٹیوبرز کمیونٹی سے ملاقات کی جس میں انہیں ایک نوجوان صحافی نے بتایا کہ پاکستان کے تین صحافیوں نے یوٹیوب سے ایک سال میں 71 ہزار ڈالر کمائے ہیں۔ اس بات پر عمران خان کی جانب سے بھی مذاق میں کہا گیا تھا کہ پھر تو ہمیں بھی یوٹیوب چینل کھول لینا چاہئیے۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ عرصے میں ملک کے نامور صحافیوں نے بھی ٹی وی چینلز پر عائد حکومت کی پابندیوں سے تنگ آ کر یوٹیوب چینل پر آنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یوٹیو ب چینل لانچ کرنے والے صحافیوں میں صابر شاکر، عارف حمید بھٹی، رؤف کلاسرا، سمیع ابراہم کے نام سر فہرست ہیں۔ اب حکومت کی جانب سے ایسی تجاویز پیش کر کے ثابت کیا جا رہا ہے کہ شاید حکومت کو اب یوٹیوب چینل بھی کچھ خاص پسند نہیں، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ صحافیوں نے اب وہ باتیں یوٹیوب پر کرنا شروع کر دی ہیں جن پر حکومت کی جانب سے نیشنل میڈیا پر پابندی لگائی گئی تھی۔ لیکن اب اس سے تاثر آرہا ہے کہ شاید حکومت کو صحافیوں کے یوٹیوب چینل سے بھی مسئلہ ہے۔ یاد رہے کہ پیمرا کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ انٹرٹینمنٹ چینل کے لئے فیس 50 لاکھ جبکہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے والے لوگوں کے لئے چینل فیس ایک کروڑ رکھی جائے لیکن اس تجویر کو رد کر دیا گیا تھا۔
![]()