کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آل سٹی تاجر اتحاد (رجسٹرڈ) کے صدر حماد پونا والا کا کہنا ہے کہ کراچی میں ون وے میں داخل ہونے والے موٹرسائیکل اور کار سوار افراد کے خلاف ایڈیشنل آئی جی سندھ کے احکامات پر فوری ایف آئی آر درج کرنے کی شرط کو ختم کیا جائے۔ ایڈیشنل آئی سندھ کی جانب سے گزشتہ دنوں نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں ون وے میں داخل ہونے والے موٹر سائیکل اور کار سوار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ آل سٹی تاجر اتحاد نے ہمیشہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مخالفت کی ہے۔ ٹریفک کے قوانین کی ہر صورت پاسداری ہونی چاہئے مگر فوراً ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہئے۔ جبکہ سب سے پہلے اس سلسلے میں آگاہی فراہم کی جانی چاہئے۔ کراچی کی سڑکوں پر ون وے کے سائن بورڈز آویزاں ہونے چاہئیں۔ ون وے میں داخل ہونے والے موٹرسائیکل سوار / کار سوار افراد کے خلاف دفعہ 269 کے تحت ایف آئی آر درج کی جارہی ہے جس میں شخصی ضمانت بھی نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے کراچی کی عوام کے ساتھ ساتھ بزنس کمیونٹی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے سے لوگوں کا کریمنل ریکارڈ بن جاتا ہے۔ جس کے باعث کافی دشواریاں جنم لے رہی ہیں۔ اگرچہ کسی شخص کی ون وے کی خلاف ورزی پر ایف آئی درج ہونے کے بعد اسے اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایل سی کھلوانے، بیرون ملک کے ویزا کے حصول میں اور دیگر کافی معاملات میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور ایک سفید پوش اور باعزت کاروباری انسان خواہ وہ غلطی یا لاعلمی کے تحت ہی ون وے میں داخل ہوگیا ہو اس کی ایف آئی آر درج کردی جاتی ہے اور اس کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنا ہر شہری پر لازم ہے اور اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے کی جانی والی سختی بھی بالکل درست ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی پر بھی چالان کی صورت میں بھاری رقم کا جرمانہ لگایا جائے تاکہ پولیس کے محکمہ کو ریونیو بھی جنریٹ ہو اور شہری بھی خلاف ورزی سے اجتناب کریں۔ لیکن ایف آئی آر درج کرنے سے لوگوں کی ذاتی زندگیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور کاروباری زندگی بھی مفلوج ہو رہی ہے۔ لہٰذا آل سٹی تاجر اتحاد (رجسٹرڈ) کی جانب سے ہمارا آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی ٹریفک سے اپیل ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی کرنے والے موٹر سائیکل سوار / کار سواروں پر ایف آئی آر درج کرنے کی شرط کو ختم کیا جائے اور نظر ثانی کی جائے۔
![]()