ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے صوبائی حکومت کو محکمہ پولیس کے شہدا کے بچوں کو بطو ر اے ایس آئی بھرتی کے لئے ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلی امور کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس تقریبا گذشتہ دو دہائیوں سے روایتی پولیسنگ کے ساتھ ساتھ بالخصوص دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار رہی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے 2015 میں پولیس شہدا کے بچوں کے لیے 300 سیٹوں کی منظوری دی تھی۔ جس پر ویٹنگ لسٹ میں شامل پولیس شہدا کے بچوں کو بھرتی کیا گیا تھا۔ مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ فی الوقت پولیس شہدا کے بچوں کو بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے جبکہ پولیس شہدا کے بچوں کی تعداد 198 تک پہنچ چکی ہے۔ جن میں سے بعض نے اپنے حق کے لئے اعلی عدالتوں سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ مراسلے میں پولیس شہدا کے تمام بچوں کو فورس میں بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ سال 2015 کی طرح پولیس شہدا کے بچوں کے لیے یکمشت 200 آسامیوں کی منظوری دیں یا انہیں پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 32 کی ذیلی شق (1) تحت پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست بھرتی ہونے والے اے ایس آئیز کے مقرر کردہ کوٹے میں دستیاب سیٹوں پر بھرتی کریں۔ مراسلے میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت پولیس شہدا کے 198 بچوں کو بطور اے ایس آئی بھرتی کرنے کے لیے ان تجاویز کے علاوہ کوئی اور مناسب حل زیر غور لا کر شہدا کے بچوں کی پولیس میں بھرتی کے دیرینہ مطالبے کو پورا کر سکتی ہے۔
![]()