کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے”تعلیمی انقلاب“ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری بہن ڈاکٹر عافیہ کا خواب تھا کہ وہ پاکستان میں تعلیمی انقلاب لے کر آئے۔ عافیہ کا اس بات پر یقین تھا کہ پاکستان کو درپیش ”کرپشن سے لے کر معاشی عدم استحکام تک اور عدم برداشت کے روئیے سے لے کر سنگین جرائم تک“ سارے مسائل کا حل تعلیمی اصلاحات میں شامل ہے۔ وہ ”عالمی یوم تعلیم“ کے موقع پر گلوبل عافیہ موومنٹ کے زیراہتمام ”ایجوکیشن واک“ کے شرکاء سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ نے ایک ایسا نصاب وضع کیا تھا جس سے ان امور کو موثر انداز میں اس طرح حل کیا جانا تھا کہ امیر اور غریب افراد کو یکساں طور پر آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم کا مطلب بچوں کو صرف الف ب پ پڑھانا نہیں بلکہ تعلیم کو خواندگی سے بڑھ کر انسان میں شعورپیدا کرنا چاہئے۔ پاکستان کو اس وقت ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے اور عافیہ کے نظام کا بنیادی کام بچوں میں شعور کو بتدریج بڑھانا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مزید کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کے ایجوکیشن پلان میں طلباء کے کردار کو تعمیر کرنے اور ان کو سیکھنے کے آسان طریقے مہیا کرنا شامل ہے تاکہ جب دس سالوں میں وہ فارغ التحصیل ہوں تو وہ تازہ ترین تحقیقات میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کے کردار طارق بن زیاد ، خالد بن ولید، محمود غزنوی، محمد بن قاسم، سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائداعظم جیسے ہوں مگر بدقسمتی سے وہ ملک دشمنوں کا شکار بن گئے جو پاکستانی نوجوانوں کی اس طرح کی روشن خیالی کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس سال ”ایجوکیشن ڈے“ کو قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور منا رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کی تعلیمی اصلاحات کو ملک بھر میں فی الفور نافذ کیا جائے جس کی ایجوکیشن واک کے شرکاء نے بھرپور تائید کی۔ ایجوکیشن واک میں کراچی یونی ورسٹی اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم اسید احمد، این ای ڈی یونی ورسٹی اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم عبداللہ عزام، پرائیویٹ اسکولز سے تعلق رکھنے والے پروفیسر تنویر ملک، ڈاکٹر ایوب عباسی، عثمان پبلک اسکول سے انتصار احمد، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر اعظم منہاس، پی ڈی پی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد، جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار، محبان کراچی کے چیئرمین حافظ محمد ارشد رفیق، ندیم انور، ہیومن رائٹس نیٹ ورک کراچی کے سربراہ انتخاب عالم سوری، انجینئر وسیم فاروقی، کراچی بار کونسل کے رہنما ایڈوکیٹ نعیم قریشی، متحدہ علماء محاذ کونسل کے رہنما علامہ عبدالخالق فریدی، کراچی سٹی فورم کے رہنما علی احمد، انجمن فلاح و بہبود برائے خواتین کی چیئرپرسن بابرہ اسماعیل، شاعرہ ہما عزمی، عالمی حمد نعت کونسل کے قاری ہارون رشید، قاری محمود حکیم، حافظ عبدالرحمان حذیفی، قاری مرشد عالم، کالم نگار حفیظ خٹک، مولانا محمد یعقوب جہاں اور عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
![]()