مانسہرہ (رپورٹ: عتیق سلیمانی) ضلع مانسہرہ کے تھانہ پھلڑہ میں درج ہونے والے مقدمہ جس میں مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے 10 سالہ طالب علم جوکہ مدرسہ تعلیم القران میں زیر تعلیم تھا سے زبردستی جنسی زیادتی کرنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اور 2 دن تک حبس بجا میں رکھا تھا۔ اس مقدمہ کی تفتیش اپنے مراحل مکمل کرنے کے بعد حتمی چلان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مقدمہ میں مرکزی ملزم قاری شمس الدین کا ڈی۔ این۔ اے نمونہ لیبارٹری رپورٹ کےمطابق میچ ہوچکا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹری رپورٹ، انجری رپورٹ اور عینی شاہدین کےجج صاحب کے روبرو 164 کے بیانات اور دیگر شواہد نے بھی یہ بات ثابت کر دی ہے کہ مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے ہی بچے سے جنسی زیادتی کی تھی۔ اس کیس کے شریک ملزمان پر بھی ملزم کی مدد کرنے، بچے کو حبس بےجا میں رکھنے اور شواہد کو چھپانے و مٹانے کےالزامات بمطابق شواہد تفتیش کا حصہ بنے ہیں اور شریک ملزمان کے جملہ جرائم کو ثابت کرتے ہیں۔ ڈی پی او مانسہرہ صادق بلوچ اور ایس پی انوسٹی گیشن مانسہرہ محمد عارف جاوید کےمطابق اس کیس کی حساسیست کو مدنظر رکھتے ہوۓ مقدمہ کا ٹرائل ماڈل کورٹ مانسہرہ میں کروانے کی سفارش کی جاۓ گی، مانسہرہ میں دس سالہ بچے کیساتھ جنسی ذیادتی کیس میں نامزد ملزم شمس الدین کا ڈی این اے بچے سے میچ کر گیا۔ واضے رہے کہ مانسہرہ پولیس نے ملزم کو 29 دسمبر 2019 کو گرفتار کیا تھا۔
![]()