Home / اہم خبریں / کرپشن سے پاک پاکستان کرپٹ لیڈروں کے بس کی بات نہیں، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کرپشن سے پاک پاکستان کرپٹ لیڈروں کے بس کی بات نہیں، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کرپشن سے پاک پاکستان کرپٹ لیڈروں کے بس کی بات نہیں۔ ماضی کی کرپٹ اتحادی جماعتوں کے کندھوں پر کھڑی پی ٹی آئی کی حکومت اول دن سے آج تک کرپشن کی روک تھام میں ناکام رہی ہے۔ اداروں میں کرپشن سے پاک پاکستان کی تحتی ضرور آویزاں ہے لیکن عملا اس کا اطلاق کہیں نظر نہیں آتا۔ بد عنوانی کے خلاف موجودہ حکومت کی کارکردگی ابھی تک مایوس کن رہی ہے۔ ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور نیب کے اداروں کی قابل ستائش کوششوں کے باوجود کرپشن کا کینسر سیاسی و ملکی نظام کی رگوں میں پھیل چکا ہے۔ اوپر سے نیچے تک سب بدعنوانی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے کمر بستہ ہیں۔ کرپشن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا اہم مسئلہ ہے۔ انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ میں پاسبان رہنماؤں اور عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف شکور نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں ہر ادارہ خواہ وہ صحت کا محکمہ ہو یا تعلیم کا، لوکل گورنمنٹ کے ادارے ہوں یا سرکاری دفاتر، شہری ترقی کے ادارے ہوں یا میونسپل کمیٹیاں، محکمہ پولیس ہو یا اسمبلیاں، یہ ادارے کم اور بدعنوانی اور رشوت ستانی کے گڑھ زیادہ بنے ہوئے ہیں۔ ریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں کو عالمی اینٹی کرپشن ڈے منانے کا آغاز اپنی پارٹی سے کرپشن ختم کرکے کرنا چاہیئے موجودہ پارلیمنٹ کرپشن کا منبع ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ، الیکٹ ایبلز، وڈیرے اور جاگیردار ہیں، جنہوں نے خدمت کی سیاست کو تجارت کی سیاست بنا دیا ہے۔ یہ لوگ اپنے اپنے حلقوں میں الیکشنز پر دو، دو ارب روپے لگاتے ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد کرپشن کر کے دو کی جگہ دس ارب روپے کماتے ہیں۔ سیاسی مصلحتوں اور کمزور سسٹم کے باعث یہ افراد تمام الزامات سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے، عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ الطاف شکور نے بدعنوانی کے سد باب کے لئے اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کو نیچے سے اوپر تک جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا پھر چاہے وہ کوئی بھی ادارہ ہو۔ جب تک بڑے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا کرپشن کا خاتمہ نا ممکن ہے۔ جب تک متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات نہیں ہوں گے، کرپشن کا کینسر پھیلتا ہی رہے گا۔ اس کے خاتمے کے لئے انسداد بدعنوانی کے تمام اداروں کو مکمل فعال کیا جائے۔ بدعنوان عناصر کے خاتمے کے لئے موثر قوانین بنائے جائیں اور ان کا اطلاق بھی کیا جائے۔ بدعنوانی ملک کی ترقی، جمہوریت اور خوشحالی کے راستے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسے بردداشت نہ کیا جائے اور اس کے خاتمے کی شروعات حکومتی اداروں اور عہدیداروں سے کی جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے