کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کمشنر کراچی افتخار علی شلوانی نے کہا ہے کہ شہر میں فراہمی و نکاسی آب، ٹرانسپورٹ اور سالڈ ویسٹ کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، واٹر بورڈ کی نج کاری ہوجانی چاہیے، تجازوات سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر عمل کیا جارہا ہے، ای بی ایم کاز وے کے اطراف میں ریور بیڈ کی سطح کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے ظہرانے سے خطاب کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، سینیٹر عبدالحسیب خان، سینئر نائب صدر کاٹی محمد اکرام راجپوت اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی نکاسی اور فراہمی، ٹرانسپورٹ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کے لیے حکومتی و نجی شعبے کی شراکت داری کے ماڈل پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ واٹر کمیشن کو اپنی پہلی رپورٹ میں پانی کی تقسیم و ترسیل کے نظام میں کی نجکاری کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے مسائل سے بخوبی آگاہی ہے انتظامی امور سے متعلق شکایات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ قبل ازیں صدر کاٹی شیخ عمر ریحان نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی انتہائی ناقص کارکردگی پر صنعت کاروں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اس ادارے کی کارکرگی صفر ہے، اس حوالے سے فوری طور پر بڑا فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کا قبلہ درست کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کی نج کاری کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی اس شہر کو اون کرتے ہیں اور یہ شہر کی خوش قسمتی ہے کہ ان جیسا فرض شناس اور با صلاحیت افسر اس کا نگہبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں تجاوزات کرکے بنائے گئے چھپڑ ہوٹلوں کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم میں اضافے، ٹریفک میں رکاوٹ جیسے دیگر مسائل درپیش ہیں اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک گیر شجرکاری میں کاٹی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور اپنے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر کی ہدایات کے مطابق کورنگی صنعتی علاقے میں لاکھوں درخت لگائے جاچکے ہیں۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے بھی کورنگی صنعتی علاقے میں تجاوزات پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا نے کہا کہ کچرے کی ڈمپنگ کی وجہ سے ملیر ریورڈ بیڈ کی سطح اس قدر بلند ہوگئی ہے کہ اس برس ہونے والی بارشوں میں 1985 کے بعد پہلی مرتبہ ای بی ایم کاز وے تین مرتبہ بند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر نے برسات میں اس علاقے کی بحالی کے لیے ذاتی نگرانی میں کام کروایا جس کے لیے شکر گزار ہیں تاہم ملیر ریور بیڈ کو اصل سطح پر لانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانی موجود ہونے کے باوجود صنعتوں اور شہریوں کو اس کی فراہمی سے متعلق شکایات ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہوگا۔ بعد ازاں اپنے خطاب میں کمشنر کراچی نے کہا کہ ای بی ایم کاز وے کے اطراف میں کسی صورت ڈمپنگ نہیں ہونی چاہیے اور ریور بیڈ کی سطح کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ فٹ پاتھ، پارک یا ایمنیٹی پلاٹس پر ہونے والی تعمیرات کو ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود ہٹا دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن سے معاہدہ طے پاگیا ہے اور اگلے تمام کیبلز زیر زمین کرنے کی مہلت دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مون سون تک برسات میں کرنٹ لگنے کے واقعات پر قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تزئین و آرائش کیلئے نجی شعبے کی شراکت کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ آٹے اور روٹی کی قیمتوں کا تعین فوڈ ڈپارٹمنٹ کی ذمے داری ہے ان کی جانب سے جاری کردہ نرخوں پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔ تقریب میں کاٹی کے سابق صدور دانش خان، فرخ مظہر، فرحان الرحمن، ایس ایم یحی، شیخ باسط اکرم سمیت ممتاز صنعت کاروں اور بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
![]()