ہزارہ (رپورٹ: عتیق سلیمانی) ہزارہ ڈویژن کے آٹھوں اضلاع میں پولیو کے خاتمہ کی خصوصی پانچ روزہ مہم پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سنٹر(ای او سی) خیبر پختونخوا کے صوبائی کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے بتایا ہے کہ 2020 میں پولیو کا خاتمہ ممکن بنانے کے لیے ای او سی ہزارہ سمیت صوبے کے 11 ہائی رسک اضلاع میں پولیو ٹیموں کو اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی کوآرڈینیٹر نے تورغر اور لوئر کوہستان سمیت ہزارہ ڈویژن کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا کوآرڈینیٹر ای او سی نے پولیو ورکرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو ورکرز سخت ترین حالات کے باوجود دشوار گزار راستوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔ اس مہم کے دوران 11 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جائیں گے۔ ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے خود بھی انسداد پولیو مہم کی نگرانی کی اور تورغر، کوہستان لوئر اور کوہستان کولئی پالس کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ عبدالباسط نے مہم کے پہلے روز مارننگ اسمبلی میں پولیو ٹیموں کو فیلڈ میں تعینات کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رواں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائے جائیں۔ خیبر پختونخواہ کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر نیاز کا ظم اور نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی رہنمائی میں ای او سی خیبر پختونخوا پولیو کے خاتمے کے نیک مقصد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور ٹیموں کو اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام میں مدد کر رہی ہے تاکہ 2020 میں پولیو کا خاتمہ ہوسکے۔ کوآرڈینیٹرای اوسی نے ڈپٹی کمشنر تورغر اور اے ڈی سی سے بھی ملاقات کی اور قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی 100 فیصد کوریج میں درپیش مشکلات اور خامیوں کو دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تورغر اور لوئر کوہستان میں جاری پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر میں روزانہ شام کو منعقد کیے جانے والے جائزہ اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔
![]()