ہری پور (رپورٹ: عتیق سلیمانی) کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام نے ہزارہ ڈویژن میں 22 نومبر کو ختم ہونے والی سابقہ پانچ روزہ پولیو مہم کے اہداف کے 98 فیصد حصول کو ناکافی قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت پر واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت پولیو مہم کے سو فیصد سے کم نتائج کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ انہو ں نے ہدایت کہ گزشتہ مہم کے دوران ڈویژن بھر کے 912447 میں سے جن 18141 بچوں کو کو اپنے ضلع میں عدم موجودگی، والدین کے انکار یا کسی دوسری وجہ سے قطرے نہیں پلائے جاسکے ان کے مکمل نام پتے اور دیگر کوائف کی تحریری تفصیلات پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ایسے بچوں تک رسائی حاصل کرکے انہیں آئندہ پولیو مہم میں قطرے پلائے جاسکیں اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ ضلعی محکمے اہداف کے سو فیصد حصول میں محکمہ صحت سے تعاون کریں۔ یہ ہدایات انہوں نے جمعہ کے روز کمشنر ہاؤس میں ڈویژنل انسداد پولیو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، ڈسٹر کٹ ہیلتھ آفیسروں، و پولیو پروگرام کے حکام اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ پولیو مہم میں ہزارہ ڈویژن کے آٹھوں اضلاع کے 236 یونین کونسلوں میں 3912 پولیو ٹیموں نے 912447 میں سے 900196 بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر 98 فیصد اہداف حاصل کئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈویژن میں مزید ایک پانچ روزہ کیس ریسپانس مہم آئندہ 2 دسمبر جبکہ آل پاکستان مہم 16 دسمبر سے شروع کی جائے گی۔ کمشنر سید ظہیر الاسلام نے اجلاس کے شرکاء پر واضح کیا کہ وائلڈ پولیو کا خاتمہ ہمارا حتمی ہدف ہونا چاہیے اور پولیو کے قطرو ں سے محروم رہ جانے والے بچوں تک ہر صورت میں رسائی حاصل کرکے انہیں قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوہستا ن طرز پر اس طرح کے بچوں کے مکمل کوائف مرتب کیے جائیں تاکہ ان تک رسائی ممکن ہوسکے جبکہ بچوں کو قطرے پلانے سے گریز کرنے والے والدین تک بھی علماء اور معاشرے کے دیگر بااثر افراد کے ذریعے رابطہ کرکے پولیو کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور کی جائیں انہوں نے کہا کہ اپر ہزارہ میں میں ٹائپ 2 پولیو کے دو مریضوں کی موجودگی انتہائی تشویش کی بات ہے اگر اس مرض کو اسی سطح پر روکنے کے لئے موثر اقدامات نہ کئے گئے تو پولیو وائرس مزید پھیلنے کا خطرہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو پورے ملک میں گردش کر رہا ہے اس لیے بچوں کو اس کے وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی ویکسین پلانا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت کی کہ انکاری والدین کو زبردستی آمادہ کرنے کے بجائے دلائل اور واقعات سے قائل کیا جائے۔ انہوں نے دور افتادہ اضلاع میں عملے کی کمی کے مسائل حل کرنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پولیو کے تربیت یافتہ عملہ سے کوئی غفلت یا کوتاہی نہیں ہونی چائیے جب کہ غیر تربیت یافتہ عملے کی مناسب تربیت سے بھی مقررہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پولیو کے قطروں سے بچنے کے لئے بچوں کی انگلیوں پر جعلی نشان لگانے کی روش بھی تربیت یافتہ عملے اور پولیس کی مدد سے ختم کی جا سکتی ہے۔ کمشنر ہزارہ نے پولیو مہم کے دوران پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کا اعتراف صوبائی حکومت میں اعلی سطح پر بھی کیا گیا ہے اور ہزارہ کے ضلعی محکموں کو بھی پولیو کے خاتمے کیلئے پولیس کے طرز عمل کی تقلید کرنی چاہیے جو بچوں کو دوستانہ طریقے سے قطرے پلانے پر یقین رکھتی ہے۔ کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں پولیو کے خاتمے کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پانچ پانچ پولیو ورکروں اور افسروں کی نشاندھی کریں جنہیں چیف سیکر یٹری کی جا نب سے پشاور مدعو کرکے نقد انعاما ت دئے جائیں گے۔
![]()