Home / Home / جس چیز پر پیپلز پارٹی کا ہاتھ لگ جاتا ہے اس کے ساتھ ایک چیز بڑھ جاتی ہے جسے کرپشن کہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی

جس چیز پر پیپلز پارٹی کا ہاتھ لگ جاتا ہے اس کے ساتھ ایک چیز بڑھ جاتی ہے جسے کرپشن کہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے 12 سالہ دور حکومت میں یہی کہتی آئی ہے کہ قومی اداراہ برائے امراض قلب سب سے بہترین طریقے سے چلایا جارہا ہے۔ قومی اداراہ برائے امراض قلب ایک بہترین ادارہ ہے جو عوام کی بہترین خدمت کررہا ہے لیکن قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے حوالے سے بڑی کرپشن، بے ضابطگیاں اور رشوت خوری کے انکشافات ہوئے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز پر پیپلز پارٹی کا ہاتھ لگ جاتا ہے اس کے ساتھ ایک چیز بڑھ جاتی ہے جسے کرپشن کہتے ہیں۔ جسٹس گلزار کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ کرپٹ صوبائی حکومت کوئی نہیں۔ یہ باتیں انہوں نے اتوار کے روز پارٹی سیکریٹریٹ ”انصاف ہاؤس“ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اراکین سندھ اسمبلی ڈاکٹر عمران علی شاہ، ڈاکٹر سیما ضیاء، پی ٹی آئی رہنما شیراز علی اور طاہر ملک بھی موجود تھے۔ فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ ادارے کے اندر این آئی سی وی ڈی ویلفیئر ٹرسٹ کے تعاون سے ایک بلڈنگ زیر تعمیر تھی جس کا کام 80 فیصد مکمل ہوچکا تھا لیکن ادارے میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے انہوں نے بلڈنگ کے لئے فنڈنگ بند کردی۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کو ان معاملات کا علم ہے لیکن انہوں نے اسے ٹھیک کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ اس ہسپتال کے آڈیٹر کی رپورٹ جب ہم نے دیکھی تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس ادارے پر 7 بلین واجبات ہیں لیکن۔ اس وقت ہسپتال کاخسارہ 10 بلین تک پہنچ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے لئے 5 مشینوں کا ٹینڈر کیا گیا جبکہ 12 مشینیں خریدی گئیں۔ اس ادارے کے سربراہ جن کا نام ندیم قمر جو کہ ایک سرکاری ملازم ہوتے ہوئے لیاری میں چیسٹ پین یونٹ کے افتتاح کے موقع پر جئے بھٹو کے نعرے لگاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ایوان میں کہا تھا کہ ہم اس ہسپتال کو چلانے کے لئے 14 بلین سالانہ خر چ کرتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ادارے میں 1999 سے اب تک کوئی بیلنس شیٹ ہی نہیں بنائی گئی۔ این آئی سی وی ڈی کی پروموشن کے لئے ایک فلم تیار کی گئی جو کہ میڈیا ڈپاٹمنٹ کی سربراہ محترمہ صوبیہ نے اپنے ایک جاننے والے کو دیا۔ یہ پروموشن فلم کو بنانے کے لئے 50 لاکھ روپے دئے گئے جبکہ شہزاد رائے نے اسی ادارے پر ایک فلم ساڑھے چار لاکھ روپے میں تیار کی تھی۔ ادارے میں کنسٹرکشن کے کام کے لئے ایسے لوگوں کو نوازا گیا جو کام ہی نہیں کر رہے اور انہیں پیسے دیئے جارہے ہیں۔ ادارے نے بلڈ ٹیسٹ کا سامان ہسپتال میں ہونے کے باوجود ایک ادارے کو اس کا ٹھیکا دے دیا۔ وہ ادارہ ایک ٹیسٹ کے لئے 1200 روپے چارج کرتا ہے جبکہ یہی ٹیسٹ ادارے کے اندر 100 روپے میں ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ تین ہسپتال وفاق کے حوالے کئے تھے جوکہ ہم نے واپس صوبے کو دے دیئے تھے۔ یہ ہسپتال وفاق نے تحویل میں لینے کے لئے کچھ شرائط رکھی تھی جس میں فارنزگ آڈٹ اور دیگر چیزیں شامل تھی جوکہ نہیں کروائی گئی۔ ہم 18 ویں ترمیم کے تحت صوبے کے اختیارات کی حمایت ضرور کرتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ایجوکیشن، ہیلتھ اور لیبر کی پالیسی بنانے کی ذمہ داری وفاق کے پاس ہونی چاہئے۔ 

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے