اسلام آباد (سپورٹس ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اہم رکن اور سینئر پارلیمینٹیرین اقبال محمد علی خان نے کہا ہے کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی کی سربراہی میں بننے والی ٹاسک فورس کی سفارشات منفی اور سپورٹس دشمن ہیں، انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات سے ملکی سطح پر کھیل اور کھلاڑیوں کا مسقبل خطرے میں پڑگیا ہے، انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات کے مطابق پاکستان سپورٹس بورڈ کو جلد از جلد بند کردینے اور ملازمین کی تعداد میں کمی کردینے جیسے منفی اقدامات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹاسک فورس کے چیئرمین احسان مانی نے کھیلوں کے موجودہ سٹرکچر میں بہتری لانے کی بجائے اسے تباہ کرنے کی سفارشات مرتب کی ہیں، ذرائع کے مطابق چیئرمین ٹاسک فورس نے ان سفارشات کو مرتب کرنے کی ذمہ داری کھیلوں سے ناواقف شخص علی رضا ایڈووکیٹ کو دی جس نے جنرل ر عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ملی بھگت سے مذکورہ متنازعہ سفارشات مرتب کیں، ان سفارشات کو مرتب کرتے ہوئے سپورٹس فیڈریشنوں، پاکستان سپورٹس بورڈ کی انتظامیہ، قومی اسمبلی و سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین و اراکین، کھلاڑیوں کی کفالت کرنے والے ادارے، سابق اولمپینز، سپورٹس جرنلسٹس وغیرہ کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی کسی سے مشاورت کی گئی، ٹاسک فورس کی ہدایت پر پاکستان سپورٹس بورڈ نے ایک سال سے کھیلوں کی بیشتر فیڈریشنوں کو فنڈز جاری نہیں کئے، جس سے پاکستان میں کھیل اور کھلاڑیوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اہم رکن اور سینئر پارلیمینٹیرین اقبال محمد علی خان نے کہا کہ ہم ان سفارشات کا ازسر نو جائزہ لیں گے اور پاکستان میں سپورٹس کی بہتری اور ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرینگے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو ایک این جی او ادارے کی طرح چلایا جارہا ہے جس پر کئی سال سے مخصوص لوگ قابض ہیں، انہوں نے کہا کہ آئی او سی چارٹر اور پی او اے کے آئین کے تحت اسکے اسکا پیٹرن ان چیف ہیڈ آف سٹیٹ جبکہ پیٹرن میں تمام صوبائی گورنرز شامل ہیں لیکن آج تک اس کا عملی ًطاہرہ نظر نہیبں آیا، اقبال محمد علی خان نے پی او اے کے صدر جنرل ر عارف حسن اور سیکرٹری جنرل خالد محمود کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ افراد بیک وقت کئی عہدوں پر براجمان ہیں اور سپورٹس فیڈرشنوں کے عہدوں سمیت پی او اے میں پرکشش سیٹوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان پی او اے کے الیکشن پر پابندی لگا کر آڈیٹر جنرل پاکستان سے انکا پہلے آڈٹ کرائے اسکے بعد الیکشن کا عمل شروع ہو۔
![]()