اسلام آباد (بیورو رپورٹ) انٹرنیشنل رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ ریاست مدینہ پر اس لئے زور دیتے ہیں کیونکہ یہ میری زندگی کا تجربہ ہے، زندگی کے تجربات میں اسوہ کامل پر عمل کو ہی بہترین پایا ہے۔ پہلے میرے رول ماڈل کوئی اور لوگ تھے بعد میں آپ صلّی الله علیہ وسلم میرے رول ماڈل قرار پائے میرا ایمان اپنے والد کے ساتھ نماز جمعہ اور عید سے زیادہ نہیں تھا۔ میرا ایمان ہے کوئی عظیم انسان بننا چاہتا ہے تو آپ صلّی الله علیہ وسلم کو رول ماڈل بنائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان نبی کریم صلّی الله علیہ وسلم کی زندگی کو مشعل راہ بنائیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں ریاست مدینہ پر تحقیق ہونی چاہئے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ الیکشن سے پہلے ریاست مدینہ کی بات کرتا تو کہا جاتا کہ ووٹ کے لئے ایسا کہ رہا ہوں۔ ہمیں قومی نظیر بننا ہے تو ریاست مدینہ پر چلنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں جنھوں نے پیسا لوٹا انہیں معاف کر دیں، میں کہتا ہوں پیسا میرا نہیں قوم کا ہے۔ نبی کریم صلّی الله علیہ وسلم نے کرپٹ لوگوں کو عبرتناک سزائیں دیں۔ ملک کو کنگال کرنے والوں کو معاف کرنا میرا کام نہیں ہے۔ این آر او اور رحم کرکے ہم نے معاشرے کا بیڑہ غرق کر دیا۔ سیاست، بیورو کریسی سمیت ہر جگہ ہمارے سامنے مافیا بیٹھا ہے۔ مہنگائی اور لوگوں کی پریشانی کی وجہ کرپٹ لوگ ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پیسا بنانے کی بجائے لوگوں کی زندگی بہتر بنانا مشن ہونا چاہیے۔ پاکستان میں لوگ خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے۔ لوگ اگر ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا۔
![]()