کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے فلسفے کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ کرپشن کا لبادہ اوڑھ کر مال غنیمت سمجھ کر ملک کے خزانے کو کھایا جاتا ہے مگر عوام کی داد رسی کبھی نہیں کی گئی۔ مہنگائی کے بھاری طوق غریب عوام کے گلوں میں ڈال دیئے گئے ہیں، ٹیکسز کے نام پر خون چوس کر غریب عوام کا جینا محال کر دیا گیا ہے۔ حقیقی ریاست مدینہ کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے بانیوں کے افکار و اقوال اور نظریات کی پیروی کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی ر اہ پر گامزن کیا جائے۔ عوام دوست معاشی پالیسیاں بنائی جائیں تا کہ غریب عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار طارق چاندی والا نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ میں وفد سے بات چیت کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 نومبر شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کا یوم ولادت پاکستان بھر میں ان کی شاعری، ان کے افکار اور ان کے نظریات پر خاص روشنی ڈال کر شایان شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔ لیکن قیام پاکستان اور ان عظیم رہنماؤں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کیا اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں نے ان کے فلسفے کو زندہ رکھا ؟ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ان ہی خطوط پر جدوجہد کی گئی؟ پاکستان کے قیام کو 70 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پاکستان بنانے والوں کے گزرجانے کے بعد آنے والی کسی بھی قیادت نے پاکستان کو پروان چڑھانے میں شاید ہی کوئی کردار ادا کیا ہوگا۔ قوم آج بھی اقبال کے اس شاہین کی راہ تک رہی ہے جو انہیں با عزت طریقے سے دو قت کی روٹی سکون اور عزت کے ساتھ مہیا کرسکے۔ اقتدار کے بھوکے اپنی عیاشیو ں کے لئے غریب عوام کو مسائل اور مصائب کی بھٹی میں جھونک چکے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں عوام کو دھوکہ دے کر ان کے ووٹوں کی مدد سے ایوانوں میں آکر اپنے لئے مراعات اور سہولیات تو حاصل کرتی ہیں مگر یہاں تک پہنچانے والے غریب لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ پچھلے ستر سالوں سے کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ کرپشن کا لبادہ اوڑھ کر مال غنیمت سمجھ کر ملک کے خزانے کو کھایا جاتا ہے مگر عوام کی داد رسی کبھی نہیں کی گئی۔ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرح بنانے کی دعویدار حکومت نے رہی سہی کسی بھی پوری کر دی ہے۔ قرضوں اور مختلف ناموں پر مہنگائی کے بھاری طوق غریب عوام کے گلوں میں ڈال دیئے گئے ہیں، ٹیکسز کے نام پر خون چوس کر غریب عوام کاجینا محال کر دیا گیا ہے۔ کاروباری حضرات کو شکنجے میں لیا جارہا ہے جس سے بچنے کے لئے وہ پنی صنعتیں اور کاروبار بند کررہے ہیں جس کے بعد ایک دم سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیا ء خریدنا محال ہوگیا ہے۔ اجناس حتیٰ کہ معمولی دوائیں بھی عوام کی دسترس سے دور ہوتی چلی رہی ہیں۔ علامہ اقبال، قائد اعظم اور دیگر تحریکی رہنماؤں کے منشور اور نظریات میں یقینا ایسے ملک کا تصور کبھی بھی نہیں رہا ہوگا۔ طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ مملکت خداد اد کو حقیقی مسلم ریاست یا ریاست مدینہ بنانے کے لئے بانیان پاکستان کے افکار کی پیروی ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، عوام دوست معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں ورنہ اقبال کا تصور پاکستان محض تصور ہی بن کر رہ جائے گا۔
![]()