Home / اہم خبریں / دنیا کے سامنے مودی کی کرپشن بھی واضح ہو گئی ہے اور بھارت کا امن کے خلاف مکروہ چہرہ بھی نے نقاب ہو چکا ہے- سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کی ملتان میں پریس کانفرنس

دنیا کے سامنے مودی کی کرپشن بھی واضح ہو گئی ہے اور بھارت کا امن کے خلاف مکروہ چہرہ بھی نے نقاب ہو چکا ہے- سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کی ملتان میں پریس کانفرنس

کراچی / ملتان ( پریس ریلیز) سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے بعد پاکستان میں سیاسی تبدیلی مثبت پیش رفت ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق ان کی دہلیز پر میسر آنے چاہئیں ، سستا اور فوری انصاف ہر پاکستانی کا حق ہے، مفت اور یکساں تعلیم ملک وملت کی بنیادی ضرورت اور حقیقی ترقی کی ضامن ہے، یہ وہ خواب ہیں جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے عوام نے تبدیلی کا نعرہ قبول کیا ہے اور اگر حکومت نے عوام کے ان خوابوں کا شرمندہ تعبیر نا کیا تو ان کا انجام بھی پچھلی حکومتوں جیسا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، ان کے ہمراہ پنجاب کے رہنما ڈاکٹر عمران مصطفی کھوکھر ، خواجہ ندیم مدنی صدیقی ، مرزا محمد ارشد القادری موجود تھے، ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ اس اس پریس کانفرنس کے ذریعے ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ نئے بلدیاتی نظام کو عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جائے،عمران خان نئے پاکستان میں بلدیاتی نظام کو اس کی روح کے مطابق ترتیب دیں،سالانہ ترقیاتی فنڈ کا 30 فیصد بلدیاتی نمائندں کو دینا نہ کافی ہو گا،قانون ساز اداروں کو ترقیاتی کاموں میں لگانے کی بجائے ان کے اصل کام عوامی کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی پر لگایا جائے اور ترقیاتی فنڈز زیادہ سے زیادہ بلدیاتی نمائندوں کو نچلی سطح تک دیئے جانے چاہئیں،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ موخر نہیں بلکہ واپس لیا جائے،حکومت عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالے اور ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جائے،حکومت نے انتخابات سے پہلے اور جیتے کے بعد بھی کرپشن کے خلاف بڑے بڑے دعوئے کیے تھے اب ان پر عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے حکومت کرپشن اور کرپٹ افراد کے خلاف عملی اقدامات کرئے،انہوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرئے،امن کی مالا جپنے والی عالمی برادری کے سامنے بھارتی جنگی جنون کو اجاگر کیا جانا چاہئے،بھارتی آرمی چیف کی حالیہ بیان بازی مودی کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کی سازش تھی جو بری طرح ناکام ہوچکی ہے، دنیا کے سامنے مودی کی کرپشن بھی واضح ہو گئی ہے اور بھارت کا امن کے خلاف مکروہ چہرہ بھی نے نقاب ہو چکا ہے،امریکہ کے ساتھ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں ،امریکی مفادات کے بجائے قومی مفاد کے پیش نظر فیصلے ہونے چاہئیں،امریکہ نے ہمیشہ صرف اپنے مفادات کے لیے پاکستان کا ستعمال کیا ہے اور حالیہ نئے تعلقات کا آغاز بھی افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے استواء کیے جارہے ہیں ،پاکستان کو مفاد پرست ممالک کی بجائے مخلص دوستوں پر زیادہ انحصار کرنا چاہئے،امریکہ ترجیح ہمیشہ بھارت تھا اور ہے ہمیں بھی اپنی ترجیحات کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا،پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں اور افغانیوں کی صورتحال ایک جیسی نہیں،کچھ لوگ افغانیوں کو بنیاد بنا کر بنگالیوں کو بھی شہریت دینے کی مخالفت کر رہے ہیں جو غیر مناسب ہے، پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کی پاکستان کے لیے قربانیاں ہیں جبکہ افغان مہاجرین ملک میں دہشت گردی اور جرائم کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے ہیں ،بنگالیوں کو شہریت دینے کی حمایت کرتے ہیں لیکن افغانیوں کے حوالہ سے حکومت نظر ثانی کرئے،ایک سوال کے جواب میں انہوں کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سے وزیر اعلیٰ بنا کر حکومت اپنے وعدے سے صرف نظر نا کرئے، انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جانا چاہئے،11 کروڑ کی آبادی پر ایک وزیر اعلیٰ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، تحریک انصاف کی حکومت میں یہ نا انصافی نہیں ہونی چاہئے،پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹ بنائے جاتے ہیں لیکن پنجاب کے معاملے میں ہر حکومت نے صرف سیاست کی ہے ، عمران خان اپنے وعدے کی تکمیل کو جلد از جلد یقینی بنائیں،سادگی اور کفایت شعاری مہم بہت اچھی بات ہے لیکن دیکھاوے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، وزیر اعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، وزیر اعلیٰ ہاؤسز سمیت تمام ایسی عمارتوں کو فروغ تعلیم کے لیے یونیورسٹیز یا حکومتی آمدن کے لیے 7 سٹار ہوٹلز میں تبدیل کر دینا چاہئے، اسی طرح نچلی سطح پر بھی کفایت شعاری کا سلسلہ شروع کیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اچھے لیکن ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، قومی صفائی مہم اور شجر کاری مہم کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور عملی طور پر بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں، آئندہ بھی ایسے حکومتی اقدامات کی بھر حمایت کریں گے،حکومت عوام پر نئے ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنائے، پاکستان میں ٹیکس دینے دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے اور ساتھ ہی ساتھ ٹیکس وصولی میں کرپشن نے پاکستان کی معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے ، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنا لیا جائے اور کرپشن کو روک لیا جائے توحکو مت کو فوری نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں کوالیفائر کا جوش عروج پر، ٹکٹس کی تفصیلات جاری

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے 28 اپریل کو نیشنل بینک سٹیڈیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے