کراچی (پریس ریلیز) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے سندھ اسمبلی میں مہاجر قوم کے خلاف کی جانے والی ہرزہ سرائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک جماعت سے اختلاف پر پوری مہاجر قوم کے خلاف شرانگیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی- بلاول بھٹو زرداری کو اس معاملہ کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے کیونکہ مہاجر قوم کے خلاف بولنے والوں کو جواب دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے اگر جواب دینا شروع کیا تو بات بہت دور نکل جائے گی لیکن ہم نفرتوں کو پروان چڑھانا نہیں چاہتے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ جس کے جو جی میں آئے بولتا جائے۔ اپنے مذمتی بیان میں آفاق احمد نے کہا کہ مہاجروں کو پناہ دینے کا جھوٹ بول کر سادہ لوح سندھیوں کو تو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے باشعور پاکستانی عوام کو نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاجر قوم ہی کی وجہ سے تین کروڑ سندھیوں کو پاکستانی کہلانے کا موقع ملا اور یہ مہاجر ہی ہیں جنہوں نے سندھیوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی۔ آفاق احمد نے کہا کہ ہمیں پناہ گیر کہنے والوں کو مہاجروں کا احسان ماننا چاہئے کہ جنہوں نے انہیں جینے کا سلیقہ سکھایا، ہم تو اس قوم کے لوگ ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے پاکستانی تھے- احسان فراموشی متعصب سندھیوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اگر کسی سیاسی جماعت سے کوئی اختلاف ہے تو اسے اس سیاسی جماعت تک ہی محدود رکھا جائے۔ بلاول بھٹو نے اپنی جماعت کے لوگوں کی متعصبانہ روش پر خاموشی اختیار کی تو پھر نفرتوں کی فصل کاٹنے کیلئے بھی تیار رہنا پڑے گا۔ آفاق احمد نے کہا مہاجر قومی موومنٹ نے کبھی نفرتوں کی آبیاری نہیں کی، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سندھیوں کی بڑی تعداد تعصب سے کوسوں دور ہے لیکن ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ کس طرح مٹھی بھر وڈیروں نے سندھی قوم کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے تو جسے غلامی پسند ہے اس پر حکومت کریں، مہاجروں کو اگر رعایا سمجھنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ شیشہ کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مارنے سے اجتناب کیا جائے۔
![]()