Home / آرٹیکل / میرے استاد محترم قاری اسلم ۔ تحریر: شاہد محمود، روشن والا فیصل آباد

میرے استاد محترم قاری اسلم ۔ تحریر: شاہد محمود، روشن والا فیصل آباد

میرے استاد محترم قاری اسلم

تحریر: شاہد محمود

روشن والا فیصل آباد

ہر طالب علم کو اپنے اساتذہ کرام کے ساتھ محبت و عقیدت ہوتی ہے، ایک اچھا شاگرد زندگی بھر اپنے دل سے ان کا ادب و احترام بجا لاتا ہے، ان کی خدمت کر کے، اسے بہت بڑی سعادت سمجھتا ہے۔

میں ایک ادنیٰ سا طالب علم اپنے استاد محترم قاری محمد اسلم رحمہ اللہ کے بارے میں اپنے دل کے چند ایک جذبات و احساسات قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں کہ جس میرے استاد محترم نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی اور صراط مستقیم پر لانے کے لیے نہ دن کی پروا کی نہ رات کی بلکہ ہر حال میں اپنے آپ کو لوگوں کی اصلاح کے لیے پیش کیا۔ میں اپنے استاد محترم کا اس بات کے بارے میں عینی شاہد ہوں کہ وہ دین کے راستے میں کبھی نہ تھکنے والے انسان تھے۔ ان کی زندگی کے بہت سے حسین عنوان میرے سامنے بکھرے پڑے ہیں کبھی وہ دین اسلام کی باتیں لوگوں کو سناتے نظر آتے، کبھی وہ لوگوں کو قرآن مجید کی طرف راغب کرنے اور اس سے نصیحتیں حاصل کرنے کے لیے لوگوں میں فری تقسیم کرتے نظر آتے، کہیں وہ پیارے نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی احادیث مبارکہ لوگوں میں عام کرنے کے لیے بخاری و مسلم اور احادیث کی دیگر کتب تقسیم کرتے نظر آتے، کبھی وہ کسی زیر تعمیر مساجد کے لیے فنڈ اکھٹا کر کے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت کرتے، کبھی وہ ضرورت مندوں غرباء، مساکین اور بیواؤں کی دل کھول کر امداد کرتے اور ایسی ہی ان میں کئی خوبیاں پائی جاتی تھی۔

میں جب سے سن شعور کو پہنچا ہوں ان کو اکثر سفید کپڑوں میں ملبوس اور سر پر سفید پگڑی کی حالت میں دیکھا، ان کی چال چلن اور ہاتھ پاؤں میں تیزی، گفتگو پر وقار اور قرآن مجید پڑھنے پڑھانے اور سمجھانے میں پراعتماد استاد تھے۔

میرے استاد محترم قاری محمد اسلم رحمتہ اللہ کی ایک بہت اچھی عادت تھی کہ وہ مساجد کے بنانے اور ان کے تعاون کے سلسلے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے، علاقے بھر (روشن والا فیصل آباد) کی اکثر مساجد اس بات کی شاہد بھی ہیں۔ میں نے اپنے استاد محترم قاری محمد اسلم رحمتہ الله کی چند خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے وگرنہ ان کی خوبیوں کی ایک بہت لمبی فہرست ہے۔

یہ فانی دنیا کہ جہاں کوئی بھی مستقل نہیں رہا اور نہ رہے گا، ہم میں سے ہر ایک آج جو زندہ ہے خواہ نیک ہو یا بد وہ "کل نفس ذائقة الموت ” کے تحت ایک دن ضرور اس فانی دنیا کو الوداع کہنے والا ہے۔ میرے استاد محترم قاری محمد اسلم رحمتہ الله بھی حکم خداوندی 27 اپریل بروز ہفتہ 2019 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، یہ افسوس ناک خبر جہاں ان کے لواحقین کے لیے روح فرسا تھی وہی ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے لیے بھی بہت بڑا صدمہ تھا، آپ رحمہ الله کی نماز جنازہ فیصل آباد کی مشہور و معروف دینی درسگاہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالعزیز علوی حفظہ اللہ نے رقت آمیز لہجوں میں کثیر دعاؤں کے ساتھ پڑھائی۔ آپ کی نماز جنازہ میں علاقے بھر کے دینی اور دنیاوی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت فرمائی۔ الله تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ میرے استاد محترم قاری محمد اسلم رحمتہ الله کی مغفرت فرمائے، لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے عزیز و اقارب، لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور جتنے بھی ہمارے پیارے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

نوٹ: آزادیِ اظہار رائے کے احترام میں کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے