Home / آرٹیکل / پاکستانی فوج کے کمانڈوز سانپ کیوں کھاتے ہیں؟ تحریر: چیف اکرام الدین، یورپ

پاکستانی فوج کے کمانڈوز سانپ کیوں کھاتے ہیں؟ تحریر: چیف اکرام الدین، یورپ

پاکستانی فوج کے کمانڈوز سانپ کیوں کھاتے ہیں؟

تحریر: چیف اکرام الدین

یورپ

پاک فوج کی کمانڈوزرجمنٹ ایس ایس جی کو دنیا کی تمام سپیشل سروس فورسز میں کئی حوالوں سے انفرادیت حاصل ہے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز نیوز ایجنسی یورپ کے مطابق تربیت کے انتہائی کٹھن اور جاں لیوا مراحل سے گزرنے کے بعد کمانڈوز کی وردی اور بیج لگانے والے فوجیوں کو سنگل مین آرمی اورجدید خودکار مشین کا درجہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ چراٹ میں پاکستانی کمانڈوز کے سپاہی سے افسر تک ہر ایک کو یکساں تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے جس میں کسی بھی کوتاہی کی صورت میں اسکو سنگین ترین سزا بھی دی جاتی اور اسے یہی سبق دیا جاتا ہے کہ کمانڈو بننے کے بعد اسکی زندگی کا یہی مشن ہے کہ یا تو شہادت یا فتح، ایس ایس جی کمانڈوز کے نزدیک ناکامی یا شکست نام کا کوئی لفظ نہیں ہے اور یہی انفرادیت اسکو اقوام عالم کی کمانڈو فورسز میں نمایاں کرتی ہے ایس ایس جی کمانڈوز کو تربیت کے دوران جہاں ہر طرح کے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے سردیوں میں سرد پانیوں میں چوبیس چوبیس گھنٹے تک رہنا پڑتا ہے وہاں ابلتے ہوئے پانیوں میں بھی اسکو موسم کی شدت کا سامنا کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے کسی آپریشن کے دوران جب اسے بھوک و پیاس کا سامنا کرنا پڑے تو وہ زہریلے جانوروں کو دانتوں سے کاٹ کر بھی کھا جاتے اور ان کا خون بھی پی جاتے ہیں۔ اس کی تربیت کمانڈوز کی تربیت گاہ چراٹ میں ایس ایس جی کمانڈوز کو خاص طور پر دی جاتی ہے انہیں تربیت کے دوران سانپ پکڑنے کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ پہاڑوں اور جنگلوں میں جب خطرناک ترین سانپوں کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں کسی قسم کا خوف لاحق نہ ہو پاکستانی کمانڈوز کو دوران تربیت سانپ کی کھال اتارنے سے پہلے اسکو پکڑ کر اسکی گردن کاٹنے کا طریقہ بھی سمجھا دیا جاتا ہے جبکہ گردن کے بعد اسکی دم سے چار انچ اوپر تک کا حصہ بھی کاٹنے کے بعد دفن کرنے کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ سانپ کی گردن اور دم میں زہر ہوتا ہے جو کٹنے کے باوجود آدھ گھنٹہ تک حرکت کرتی ہے۔ اس دوران وہ کسی کو کاٹ لے تو وہ بندہ ہلاک ہوسکتا ہے۔ سانپ کی کھال اتار کر اسکے اندر سے بڑی آنت نکال کر سانپ کے گوشت کو کچا اور پکا کر بھی کھانے کا طریقہ بتایا جاتا ہے کمانڈوز کو جنگلوں اور پہاڑوں میں کئی کئی دن تک بھوکے پیاسے رہ کر آپریشن کرنا ہوتے ہیں اس لئے انہیں سانپ پکڑ کر کھانے پڑتے ہیں جس سے انکی توانائی بحال رہتی ہے پاکستانی کمانڈوز کے مطابق سانپ کا گوشت عام حالات میں کوئی مسلمان نہیں کھاتا لیکن میدان جنگ میں انہیں اپنے مشن کی تکمیل کرتے ہوئے ملکی سرحدوں، قومی اثاثوں اور عوام کی جان بچانی ہوتی ہے اس لئے وہ خود اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر طرح کے حالات میں زندہ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور جب کوئی معقول چیز کھانے کو نہ ملے تو وہ مارخور کی طرح سانپ بھی کھا جاتے ہیں واضح رہے کہ آئی ایس آئی کا نشان مارخور ہے جو سانپوں کا شکار کرتا ہے تو ایس ایس جی کمانڈوز اسکا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن جتنا بھی زہریلا اور خطرناک ہو پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز انکی گردن کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر الگ کر دیتے ہیں۔

نوٹ: آزادیِ اظہار رائے کے احترام میں کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کے دہانے پر ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے