ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) معروف قانون دان پیر صدام حسین زکوڑی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان سے کوڑیوں کے بھاؤ گلابی نمک خرید کر بیرون ملک مہنگے داموں فروخت کرنے میں مصروف ہے جس سے بھارت کا زر مبادلہ بڑھنے لگا جبکہ بھارت ہمارا ہی نمک کھا کر ہمیں آنکھیں دیکھانے میں مصروف عمل ہے لہذا پاکستان کو اب انڈیا سے نمک کا معاہدہ ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں بھارت پرجو بحث چل رہی ہے کہ پاکستان سے 2 روپے کلو اعلیٰ کوالٹی کا نمک خرید کر یورپی منڈی میں 25 یورو فی کلو فروخت کررہا ہے، حکومت ابھی تک اس اہم مسئلے کو مبالغہ آرائی سمجھ کر تحقیقات کرنے کا سوچ رہی ہے، ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ رواں سال فروری میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستانی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کیا تو سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ کھیوڑہ کی کان سے نکلنے والے نمک کی بھارت کو برآمد فوری بند کی جائے کیونکہ بھارت پاکستان سے یہ نمک 1 سے 2 روپے فی کلو میں خرید کر یورپی ممالک میں 20 سے 25 پاؤنڈ فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہا ہے۔ کیوںکہ بھارت کھیوڑہ کے اس گلابی نمک کی کانوں کا نمک دوسرے ملکوں کو اپنی مہر کے ساتھ فروخت کر رہا ہے۔ پاکستانی نمک بھارت سے ہو کر اسرائیل جاتا ہے جہاں سے اسے پیک کرکے پوری دنیا میں فروخت کیا جاتا ہے، اس سے بھارت اربوں روپے کما رہا ہے جبکہ پاکستان کی نمک سے آمدنی صرف چند کروڑ روپے ہے۔ بھارت اس نمک کو ہمالیہ کے نمک کے نام سے منسوب کرکے فروخت کرتا ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو سستے نمک کی فراہمی فوراً بند کی جائے۔
![]()