Home / اہم خبریں / پاکستان فٹبال کی تاریخ میں ایک ممتاز نام میاں رضوان علی بانی ماڈل ٹاؤن فٹبال اکیڈمی. گزشتہ 33 برسوں سے اپنی خدمات اس کھیل کو دے رہے ہیں

پاکستان فٹبال کی تاریخ میں ایک ممتاز نام میاں رضوان علی بانی ماڈل ٹاؤن فٹبال اکیڈمی. گزشتہ 33 برسوں سے اپنی خدمات اس کھیل کو دے رہے ہیں

پورٹ لوئس/ موریشس سے (اسپیشل رپورٹ : محمد عمر) فٹبال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے مگر پاکستان میں یہ کھیل ابھی تک پروان کیوں نہیں چڑھا اس کی کیا وجوہات ہے کھیل کے اس شعبہ میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کا ادارہ بھی موجود ہے مگر دکھائی یوں دیتا ہے کہ یہ صرف کاغذی کاروائی کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے؟ یا پھر یوں کہیں کہ کھیل کے اس شعبہ کا ایک حکومتی ادارہ تو موجود ہے مگر حکومتی توجہ کا منتظر ہے- اگر پاکستان میں اس کھیل کے حوالے سے نظر دوڑائی جائے تو فٹبال کراچی کے علاقے لیاری میں اور لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ہی کھیلی جاتی ہے- اور اس کھیل کو فروغ دینے اور اس کھیل کو اگر کوئی شخص سنجیدگی سے دیکھتا ہے اور اس کی خدمت کرتا ہے تو وہ شخص ہے میاں رضوان علی جو عرصہ دراز سے لاہور میں ایک اکیڈمی چلا رہے ہیں مگر پاکستان میں کھیلوں کے گراؤنڈ محدود ہوتے جا رہے ہیں ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے مگر اس کے لئے میدان نہیں ہیں اور اگر بات کریں کرکٹ کی تو یہ کھیل فٹبال کے مقابلے میں مہنگا کھیل ہے کیونکہ اس کھیل کا سازو سامان مہنگا ہے جس میں گیند، بلا، وکٹیں، پیڈ ، دستانے، ایلبو، تھائی گارڈ وغیرہ اور اگر ہاکی کی بات کریں تو اس کھیل میں اب بہت جدّت آگئی ہے اس میں ہاکی، گیند، جوتے، گول کیپر کا سازو سامان اور پھر آسٹروٹرف کا ہونا بھی ضروری ہے اس کی بانسبت فٹبال میں اخراجات بھی کم ہیں اس میں کھیلنے والے کھلاڑی کو ایک فٹبال اور جوتے موزے اور میدان کی ضرورت ہوتی ہے- پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے پاکستان کے پاس ایک ہی وقت میں 4 عالمی اعزاز تھے جن میں کرکٹ کا عالمی چیمپئن، ہاکی کا عالمی چیمپئن، اسکوائش کا عالمی چیمپئن اور اسنوکر کا عالمی چیمپئن مگر وقت کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں مسلسل زوال آتا دکھائی دے رہا ہے، کھیلوں کے میدان کم ہوتے جا رہے ہیں اور ملک کا ٹیلنٹ ضایع ہوتا جا رہا ہے- عامر خان جوکہ پاکستانی نژاد ہیں اور اس وقت عالمی شہرت یافتہ باکسر ہیں، کرکٹ میں دیکھیں تو جنوبی افریقہ کے سپین بولر عمران طاہر جن کا تعلق پاکستان سے ہے مگر وہ کھیلتے ہیں جنوبی افریقہ کے لئے، زمبابوے کے کرکٹر سکندر رضا کا تعلق بھی پاکستان سے ہے اس کے علاوہ بہت سے پاکستانی کھلاڑی ایسے ہیں جو دوسرے ممالک کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں یہ ہمارے لئے المیہ ہے کیونکہ کھیل کے شعبوں میں حکومتی توجہ کا نہ ہونا ہے- ہم بات کر رہے ہیں پاکستان میں فٹبال کا فروغ !

میاں رضوان علی جوکہ عرصہ دراز سے اس کھیل کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں اور پاکستان میں بچوں سے لیکر نوجوانوں کو فٹبال کی ٹریننگ دینے میں مصروف عمل ہیں- ایم ٹی سی کا آغاز میاں رضوان علی نے 1985 سے کیا- 2006 میں اس اکیڈمی کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا اس وقت ان کے پاس کل 25 بچے فٹبال کو سیکھنے کے لئے آئے تھے اور یہاں سے اس اکیڈمی کا آغاز ہوا اور یہ اعزاز میاں رضوان علی کو ہی حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان میں پہلی فٹبال اکیڈمی کی بنیاد رکھی- نوجوانوں میں کھیلوں کی دلچسپی کو بڑھانے کے لئے اور ان کو بینالاقوامی طرز کی فٹبال کی مہارت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے- میاں رضوان علی نہ صرف بچوں کو بلکہ بچیوں کو بھی اس کھیل میں پروموٹ کر رہے ہیں- میاں رضوان علی کا نام پاکستان کی فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ اچھے نام سے یاد رکھا جائے گا- ماڈل ٹاؤن فٹ بال اکیڈمی نے اپنے بین الاقوامی تعلقات کے ذریعے پاکستان کی مثبت تصویر کو آسانی سے پیش کیا ہے.

اکیڈمی نے بہت سے بین الاقوامی ٹیموں اور وفدوں کو ہمارے ساتھ کھیلنے کے لئے پاکستان کا دورہ کیا ہے جس کا مقصد دنیا میں یہ پیغام دینا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے بین الاقوامی ٹیموں اور کھلاڑیوں اور دوسرے کے لئے ملک میں فٹ بال کو فروغ دینا ہے- میاں رضوان علی نے اسی سال موریشس میں بھی اپنے کلب کی ٹیم کو وہاں کھلوایا اور یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے انہوں نے موریشس کی ٹیم کے خلاف 3 میچ کھیلے جن میں نے ایک میچ برابر رہا تھا جبکہ ایک میچ میں کامیابی اور ایک میں شکست ہوئی تھی اس طرح یہ سیریس برابری پر ختم ہوئی موریشس میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے عملے نے اس سلسلے میں ان کی بھرپور طرح سے معاونت کی اور یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ اس وقت کے موریشس کے قائم مقام صدر نے ان میچوں میں خصوصی دلچسپی لی تھی اور میچ دیکھنے بھی پہنچے تھے-

 

ایم ٹی ایف اے اس وقت پاکستان کی صف اول کی فٹبال اکیڈمی ہے- اسوقت ماڈل ٹاؤن فٹبال اکیڈمی میں 7000 ہزار سے زائد کھلاڑی اس اکیڈمی کا حصہ ہیں- اگر پاکستان میں میاں رضوان علی جیسے مزید لوگ ہوں تو اس بات کا قوی امکان ہے پاکستان کی فٹبال ٹیم بہت جلد دنیا کے بینالاقوامی ٹیموں کی فہرست میں شامل ہوسکتی ہے اس کے لئے حکومت پاکستان اور پاکستان فٹبال فیڈیریشن کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ میاں رضوان علی کے وسیح تجربے کا فائدہ لیں اور ان سے مشاورت کریں کہ کس طرح اس کھیل کو وسعت دی جائے-

کسی بھی اچھے معاشرے میں کھیل اور اسپورٹ مین اسپرٹ کا ہونا ضروری ہے ورنہ آنے والی نوجوان نسل صحت مند نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اقبال نے اسی لئے تو کہا ہے کہ
پلٹنا جھپٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا
ہے لہو گرم کرنے کہ ایک بہانہ

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے