کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں انتظامی یونٹ بنائے جارہے ہیں، ہم صوبے کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے۔ ایم کیوایم سندھ کی صوبائی حدود میں تبدیلی کی خواہشمند ہے یہ ممکن نہیں کہ صوبائی اسمبلی کی مرضی کے بغیر ایسا کیا جائے۔ ایم کیو ایم کی اس سازش میں تحریک انصاف اور دیگر وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں نے اس کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس بل کو کمیٹی کے سپرد کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی اس سازش کا حصہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم آج بھی الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد بھی اس کے نظریات پر قائم ہے۔ صرف الطاف حسین سے لاتعلقی کے اعلان سے کام نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کا طریقہ کار ہے کہ وہ پہلے سازش کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں سندھ ہماری ماں ہے۔ ایم کیو ایم نے آئین سے آرٹیکل 239 کی شق 4 کو نکالنے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کروایا ہے۔ اس نے سندھ اسمبلی میں اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں یہ کوشش کی ہے اور پی ٹی آئی و دیگر جماعتوں نے اس ترمیم کی مخالفت نہیں کی اب یہ ترمیم سندھ حکومت کو بھیجی گئی ہے، جس پر سندھ کی صوبائی کابینہ نے اعتراض اور شدید بر ہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن کو ترمیم کا حق حاصل ہے لیکن پی ٹی آئی نے ان کی حمایت کیوں کی اوراتحادی بھی خاموش رہے۔ یہ ترمیم صوبائی اسمبلی کا اختیار چھیننے کی سازش ہے۔ ایم کیو ایم گھناؤنا کھیل رہی ہے اور ملک کے خلاف سازش میں مصرو ف ہے۔ یہ سازش سندھ کے لئے نہیں بلکہ ملک کے دیگر چھوٹے صوبوں کیلئے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے ملک میں بحران پیدا ہوگا اور چھوٹے صوبوں کی عوام میں احساس محرومی بڑھے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا اور سندھ کا ایک ایک آدمی نہ صرف اسے مسترد کریگا بلکہ اس کے خلاف لڑے گا اور مرے گا، لیکن یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائیگی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ کو اپنی ماں سمجھتی ہے تو اس کی تقسیم کی کیو ں بات کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو مشرف دور سے لیکر اب تک ان کی سندھ کو تقسیم کرنے کی خوا ہش اپنی موت آپ مر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی امور کا وزیر اس سا زش کا حامی کیسے بنا اور وزیر نے یہ ترمیم کمیٹی کے سپرد کیوں کی۔ انہوں نے کہا کہ میرا سوال ان جماعتوں سے بھی ہے جو سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن وہ اس سازش پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں طریقہ کار موجود ہے لیکن صوبائی اسمبلی سے اس کا حق کیوں چھینا جارہا ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے پر وفاقی حکومت کی مذمت کرتا ہوں۔ اوگرا نے عالمی مارکیٹ کے تحت پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کی سفارش کی تھی لیکن اوگرا کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ جبکہ اسد عمر اور دیگر وزراء اور عمران خان خود بھی پیٹرولیم لیوی میں کمی کی بات کرتے تھے جو لیوی 8 سے 9 روپے ہونی چاہیئے وہ 15 روپے لی جارہی ہے۔ جبکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے حکومت عوام سے 53 ارب روپے سالانہ پیسے عوام سے بٹورے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گیس کی قیمتوں میں بھی 146 فیصد اضافے کے بعد اب مزید اضافے کی تیاری ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومت کے ان ہی اقدامات کی بدولت ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا ہے اور ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ لوگ دن بدن بیروزگار ہو رہے ہیں اور شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
![]()