کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) تہار جیل حکام کا یاسین ملک کو عدالت پیش کرنے سے انکار، وادی میں قابض اہلکاروں کی جانب سے خواتین کی عصمت دری کی اطلاعات، قیدیوں کو عارضی عقوبت خانوں میں رکھا ہوا ہے، سینکڑوں بھارت منتقل، حراست میں لئے گئے کئی افراد لاپتہ، اسیران میں حریت قائدین کے علاوہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت بھارت نواز سیاستدان اور صحافی بھی شامل، ذرائع نقل و حمل اور مواصلاتی رابطے منقطع ہونے سے کاروبار زندگی مفلوج، دکانیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند، میڈیا پر بدستور پابندیاں عائد۔ تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر کے ضلع گاندر بل میں تین نوجوانوں کی شہادت کے بعد، سیکیورٹی فورسز نے منگل کو ایک اور نوجوان کو شہید کردیا۔ خبر رساں ادارے ساتھ ایشین وائر کے مطابق ایک آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے نوجوان کو شہید کیا۔ فوری طور پر نوجوان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ علاقے میں تلاشی کا سلسلہ آخری خبریں آنے تک جاری تھا۔ ادھرتہاڑ جیل حکام نے یاسین ملک کو آئی اے ایف افسر قتل کیس میں عدالت میں پیش کرنے سے انکار کردیا۔ تہاڑ جیل حکام نے جموں میں ٹاڈا کی خصوصی عدالت کو بتایا کہ اس سال کے شروع میں ، وزارت داخلہ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ کشمیری علیحدگی پسند یاسین ملک کو کسی بھی عدالت میں پیش نہ کریں۔ یاسین ملک فی الحال 90-1989 میں اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیا سعید کے اغوا اور چار آئی اے ایف اہلکاروں کے قتل کے الزام میں زیر سماعت ہیں۔تاہم تہاڑ جیل حکام نے کہا ہے کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لئے راضی ہیں۔ دریں اثناء وادی میں 57 روز سے کرفیو نافذ ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ لاک ڈاون کے باعث دکانیں، بازار، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس سمیت ہر قسم کا مواصلاتی نظام معطل ہے۔ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے سے ایک دن قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔ اس دوران بھارتی فورسز نے 10 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں سے متعدد بھارت منتقل کئے گئے جبکہ کئی افراد کو وادی میں عارضی عقوبت خانوں میں رکھا گیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد میں حریت قائدین کے علاوہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت بھارت نواز سیاستدان بھی شامل ہیں متعدد زیر حراست افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ صحافیوں کو بھی گھروں اور جیلوں میں نظر بند کیا گیا ہے، انسانی حقوق کے کارکنوں پر جھوٹے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ 5 اگست سے ٹی وی، انٹرنیٹ، اخبار اور فون کی بندش سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوچکا ہے۔ قابض فوج نے کشمیریوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل کردیا ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی چیزوں، ادویات اور دیگر ضرورت کی اشیائے کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کشمیری ایک انسانی بحران سے دوچار ہوگئے ہیں۔ کرفیو کی وجہ سے جموں و کشمیر کے تاجروں کو مالی طور پر کم از کم 10ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جو کشمیریوں کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ رواں سال جون جولائی میں سوا تین لاکھ سیاحوں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اگست میں یہ تعداد صفر ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کشمیری دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پہلے سے 7 لاکھ بھارتی فوج تعینات تھی اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے باعث مزید ایک لاکھ 70 ہزار بھارتی فوج تعینات کی گئی ہے جو کشمیریوں کے احتجاج کو پوری طاقت سے کچلنے میں مصروف ہے۔ آئے روز عالمی میڈیا کے ذریعے کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس ساری صورتحال سے یہ نظر آرہا ہے کہ بھارتی حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیریوں کو معاشی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے۔
![]()