کراچی ( رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اور وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت شفقت محمود کی ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے لئے ایک نصاب کی تجویز پر عملدرآمد کی کوششیں اور مشاورت خوش آئند ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں اور صوبائی وزارت تعلیمات کو بھی اس ضمن میں ساتھ ملا کر اور اعتماد دے کر ایک ہی امتحانی بورڈ اور ایک ہی یونیفارم کے فیصلے پر لایا جائے۔ ایک نصاب، ایک امتحانی بورڈ اور ایک یونیفارم ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک سے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہوگا بلکہ ہر امیر اور غریب کے بچے کو یکساں تعلیمی مواقع ملنے سے ملک لازوال خوشحالی اور استحکام کی سمت جا سکے گا۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اس ضمن میں 21 ستمبر کو ملک بھر میں انتہائی مہنگے نجی اسکولوں میں فیسوں میں بے لگام اضافوں اور والدین کو درپیش دیگر مسائل کے خلاف ہونے والے والدین کے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کی کامیابی پر والدین کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ والدین کے پر امن اور زبردست احتجاج نے اس معاملے کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسران نے والدین کو بری طرح دھوکہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیسوں میں کمی کے احکامات جاری کئے لیکن مہنگے ترین نجی تعلیمی اداروں کے مالکان سے محکمہ تعلیم کے کرپٹ افسران نے کروڑوں روپے کی رشوت وصول کر کے فیسوں میں اضافے کے جعلی اجازت نامے جاری کئے۔ الطاف شکور نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے ان کرپٹ افسران کو والدین کی بڑی تعداد نے کئی بار بے نقاب کیا ہے لیکن نیب اور اینٹی کرپشن کی طرف سے کوئی کاروائی نہ کرنا افسوسناک ہے۔ والدین کا مطالبہ حق بجانب اور جائز ہے کہ محکمہ تعلیم کے کرپٹ افسران کا چن چن کر محاسبہ کیا جائے، کرپٹ افسران کی آمدنیوں اور اثاثوں کو چیک کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ الطاف شکور نے کہا کہ وفاقی وزراء کی آنکھوں میں بھی یہی کرپٹ افسران دھول جھونک رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان دورہ امریکہ سے واپسی پر والدین کا موقف سنیں۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور ایک نصاب، ایک امتحانی بورڈ اور ایک یونیفارم پر عملدرآمد ممکن بنائیں۔ اگر مہنگے پرائیویٹ اسکولز مالکان کی رشوت محکمہ تعلیم کے افسران کو اسی طرح دی جاتی رہی تو ملک بھر میں لاکھوں گورنمنٹ اسکولز کی حالت کبھی بہتر نہیں کی جا سکے گی۔
![]()