ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ٹی ایم اے ڈیرہ کی کاروائی، بستی ناد علی شاہ میں سیل کیے گئے غیر قانونی ٹیلی نار موبائل فون ٹاور کو کھولنے پر ایک بار پھر اسے دوبارہ مکمل طور پر سیل کر کے سامان قبضہ میں لے لیا گیا۔ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات پر غیر قانونی نئے نصب ہونے والے ٹیلی نار موبائل فون ٹاور کے خلاف ٹی ایم اے ڈیرہ کے تحصیل میونسپل ریونیو آفیسر شہروز خان نے سٹاف اور پولیس کے ہمراہ بستی نادعلی شاہ ڈیرہ عقب پولیس لائن میں غیر قانونی نصب ٹیلی نار موبائل ٹاور کو سیل کیا تاہم ٹیلی نار موبائل کمپنی نے ٹاور کو دوبارہ چالو کرلیا۔ تحصیل میونسپل ریونیو آفسیر ڈیرہ شہروز خان اپنے سٹاف کے ہمراہ دوبارہ وہاں موقع پر پہنچ گئے اور موبائل فون ٹاور کو ایک بار پھر مکمل طور پر سیل کرکے وہاں موجود سامان ایک بار پھر قبضہ میں لیا، انہوں نے ٹیلی نار موبائل کمپنی انتظامیہ کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے انہیں پندرہ یوم کے اندر موبائل فون ٹاور وہاں سے ہٹانے کا نوٹس دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے بھر میں نئے موبائل فون ٹاورز کی تنصیب کے لئے این او سی جاری کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے شہری اور گنجان آباد علاقوں میں موبائل فون ٹاورز کے شعاعوں سے مضر بیماریاں پھیلنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر نئے موبائل فون ٹاورز کی تنصیب کے لئے این او سی جاری کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے رہائشی علاقوں، سکولوں اور ہسپتالوں کے قریب نئے موبائل ٹاورز نہ لگانے اور پہلے سے موجود ٹاور کو وہاں سے ہٹانے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹیلی نار موبائل فون کمپنی انتظامیہ نے کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے اور بستی نادعلی شاہ عقب پولیس لائن میں بغیر این او سی غیر قانونی طور پر نیا موبائل فون ٹاور کھڑا کرکے اسے فنکشنل کردیا۔ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ٹی ایم او ڈیرہ عمر کنڈی کی جانب سے ٹی او آر ڈیرہ شہروز خان کی سربراہی میں سیل شدہ ٹاور کو کھولنے کے خلاف دوبارہ کاروائی کی گئی اور مذکورہ ٹاور میں نصب سامان کو قبضہ میں لے کر موبائل فون ٹاور کو دوبارہ مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔ ٹی ایم اے ڈیرہ کے مطابق ٹیلی نار انتظامیہ کو وارننگ جاری کی گئی ہے کہ وہ پندرہ یوم کے اندر ٹاور وہاں سے ہٹالیں بصورت دیگر ان کے خلاف مذید سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
![]()