کراچی ( رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے پرائیویٹ اسکولز مافیا کی جانب سے فیسوں میں من مانے اضافے کے خلاف آل اسکولز پیرنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نجی اسکولوں کی دھاندلیوں کے خلاف والدین کے احتجاج میں ان کا بھرپور ساتھ دیگی۔ سرکاری سطح پر پرائیویٹ اسکولوں کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر پرائیویٹ اسکول مافیا نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں اور اپنی لوٹ کھسوٹ کے سلسلے کو جاری رکھ کرنہ صرف والدین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ کئی طلباء کو تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ پرائیویٹ اسکولز مافیا کو لگام دی جائے۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب اور ایک یونیفارم کا نظام رائج کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے والدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے نجی اسکولوں کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ اپنی فیسیں جنوری 2017 کے مطابق وصول کریں گے تو پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے عدالتی فیصلے کی نافرمانی اور فیسوں میں من مانے اضافہ وفاق، پنجاب اور سندھ حکومت کی گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کا بیڑہ غرق کرکے اسمبلیوں میں بیٹھے چند پرائیویٹ اسکولز مالکان اور ان کے سرپرستوں نے نجی اسکولوں کی بھرمار کرکے تعلیم کو کاروبار بنا کر انتہائی مہنگا کردیا ہے۔ غریب طبقہ کے لئے پہلے ہی اعلیٰ تعلیم کا حصول مشکل تھا اب مالدار طبقہ بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے فکر مند ہے۔ تعلیم کو کاروبار بنانے والے اقدامات درحقیقت پاکستان دشمن اقدامات ہیں۔ ایسے تمام اسکولز مالکان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے جو تعلیم کو تجارت بنا کر تعلیم یافتہ پاکستان کو عملی شکل دینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے پرائیویٹ اسکول مافیا کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنہا نہیں ہیں، ملک کے مستقبل کے نونہالوں کے مستقبل کو تحفظ دلانے کے لئے پاسبان ڈیمو کریٹک پارٹی ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی روز اول سے ہی تعلیم دشمن اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتی آرہی ہے اورتعلیم کو تحفظ دلانے اور تجارت بننے سے روکنے کے لئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نے یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ 2018 کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں مقدمہ بھی دائر کررکھا ہے۔ ماضی میں میڈیکل کالجوں میں میرٹ کی پامالی اور سیٹوں کی فروخت کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں مقدمہ جیت کر اصل حقداروں کو میڈیکل یونیورسٹیز میں داخلہ بھی دلا چکی ہے۔
![]()