کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام سے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد نے صدر شاہد انجم اور جنرل سیکریٹری طحہ عبیدی کی سربراہی میں خصوصی ملاقات کی اور صحافتی امور بالخصوص فیلڈ میں ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران درپیش مختلف مسائل و مشکلات سمیت دیگر ضروری امور پر مشتمل معلومات اور آگاہی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں سی آر اے کے فائنانس سیکریٹری رجب علی، جوائنٹ سیکریٹری ندیم احمد جبکہ گورننگ باڈی کے ممبران سہیل شبیر، عاصم بھٹی اور ریحان بھی موجود تھے علاوہ اذیں اس موقع پر سینئر پولیس افسران نے بھی شرکت کی۔ آئی جی سندھ نے ملاقات میں شریک سی آر اے کے عہدیداران وممبران کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور میڈیا کے درمیان روابط کو مذید تقویت دینے کا مطلب مفاد عامہ کے اقدامات سمیت سیکیورٹی کی صورتحال پر کنٹرول کو مشترکہ اقدامات سے مؤثر اور مربوط بنانا ہے۔ جرائم کے خلاف میڈیا کی آواز پر پولیس کا بروقت ریسپانس ناصرف کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ عوام اور پولیس کے مابین دوستانہ تعلقات بھی فروغ پاتے ہیں۔اس موقع پر وفد نے اس حوالے سے ورکشاپ کے انعقاد کی بات کی جس پر آئی جی سندھ نے پولیس کی جانب سے ورکشاپ کے اہتمام کی یقین دہانی کراتے ہوئے مزید کہا کہ گذشتہ روز صحافیوں کے ساتھ پیش آنیوالے اسٹریٹ کرائمز کے جن واقعات کا آپ نے ذکر کیا ہے اس پر متعلقہ پولیس کام کررہی ہے اور جلد ہی آپ لوگوں کو آگاہ کیا جائیگا۔ آئی جی سندھ کے استفسار پر وفد نے بتایا کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ صحافتی امور کو یقینی بنانیکے لیئے باقاعدہ ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جارہا ہے جسکا مقصد نام نہاد صحافت کی حوصلہ شکنی کرنا اور ایسے ہتھکنڈوں سے صحافت جیسے عظیم شعبے کی بدنامی کا باعث بننے والوں پر کڑی نگاہ رکھنا اور انکے خلاف ہرسطح پر اور ہر پلیٹ فارم پر مؤثر ترین انسدادی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
![]()