میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص سمیت سندھ میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی کھلے عام جاری۔ ایرانی تیل کے سپلائی کرنے والے مافیا کا بڑا نیٹ ورک موجود۔ محکمہ کسٹم، ایف آئی اے اور صوبائی محکمے ایرانی تیل کی کھلے عام ترسیل سے کیوں بے خبر؟؟ میرپورخاص سے ڈگری جانے والا اٹھارہ ویلر ٹریلر جو ڈگری کوٹ غلام روڈ پر بشیر آباد اسٹاپ پر کلٹی ہوا اسکے اوپر کے حصے میں کریش بھری ہوئی جبکہ اندر دس ہزار لیٹر سے زائد ایرانی تیل موجود ہے جوکہ خفیہ طریقے سے کوٹ غلام محمد کے بااثر پیٹرول پمپ مالک کو سپلائی ہورہا تھا۔ ٹریلر الٹنے کے واقعے کے بعد ڈرائیور کنڈیکٹر فرار ہوگئے ہیں۔ چار کرینوں کی مدد سے کنٹینر کو سیدھا کرنے کی کوشش کی گئی زیادہ وزن ہونے کے سبب کنٹینر سیدھا نہ ہوسکا۔ میرپورخاص شہر سمیت ضلعی بھر میں 90 فیصد پیٹرول پمپ مالکان ایرانی پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرتے ہیں جس کی مثال اس ہیوی کنٹینر کی سپلائی سے لگایا جاسکتا ہے۔ ملک میں چند اداروں کے علاوہ تمام ادارے کرپشن زدہ اور مافیا کے کنٹرول میں ہیں وہاں سالوں سے جاری ایرانی تیل کی سپلائی روکنا ناممکن ہے۔
![]()