ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بڑھ گئے۔ لڑکیوں اور شادی شدہ خواتین کو سوشل میڈیا پر جنسی طور پر حراساں کرنے والے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے اس سلسلے میں کاروائی کرتے ہوئے پچاس سے زائد مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ متاثرہ خواتین میں زیادہ تر یونیورسٹی کی طالبات ہیں۔ تصویروں کو وٹس ایپ اور فیس بک پر اپ لوڈ کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی لڑکیوں کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں اور بعض کے نکاح بھی ختم ہوچکے ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں لوگ تصاویر اور ویڈیو کلپ بنالیتے ہیں جو بعد میں جنسی طور پر حراساں کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ فروخت کرتے وقت اپنے ویڈیو اور تصاویر ڈیلیٹ کرنا بھول جاتے ہیں جو کسی دکاندار یا خریدار کے ہاتھ لگ جاتی ہیں جوکہ بعد میں بلیک میلنگ کا ذریعہ بنتی ہیں۔
![]()