پورٹ لوئیس / موریشس (رپورٹ: محمد عمر) موریشس جس کو براعظم افریقہ کا برصغیر کہا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہوگی کیونکہ موریشس میں اردو زبان بولنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اردو زبان اور اردو ادب سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ موریشس کی نوجوان خاتون آبیناز جان علی موریشس کی پہلی خاتون اردو مصنفہ ہیں جن کی پہلی کتاب "پیچ و خم” کی سرکاری سطح پر تقریب رونمائی کا انعقاد پورٹ لوئیس کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ کتاب کی مصنفہ نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ افسانہ نگاری سے میرا رشتہ ایام یونیورسٹی سے شروع ہوا دہلی یونیورسٹی کے بی اے آنرز سال سوم میں وائیوا کے لئے تین افسانے لکھنے ضروری تھے لہٰذا میں نے ” آب حیات”، "شکست امید” اور سونامی لکھے۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو میرے اساتذہ نے بتایا کہ میں اچھا لکھتی ہوں۔ اس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی۔ دوران قیام دہلی میرے افسانے آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہوۓ۔ موریشس واپس آکر اردو اسپیکنگ یونین کے اخبار صداۓ اردو میں میرے افسانے چھپتے رہے۔ اس کے علاوہ ایم۔ بی۔ سی ریڈیو پر بھی میرے کچھ افسانے نشر ہوۓ۔ حال ہی میں ہندوستان کے معروف اخبار "انقلاب” میں میرا افسانہ "برجیش چچا” شائع ہوا۔ پاکستان کا مقبول رسالہ ” پھول” میں میرے دو افسانے شائع ہوۓ۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے دیگر آن لائن پورٹلز میں بھی میرے افسانے شائع ہوۓ اور میں نے ان افسانوں کی یوٹیوب ویڈیو بھی بنائی۔ اس کتاب کو لکھنے میں مجھے دس سال لگے۔ یہ میری پہلی کوشش ہے۔ میرے افسانے موریشس کی زندگی سے متاثر ہیں۔ میں نے خواتین کی نفسیات پر زیادہ زور دیا ہے کیونکہ اب تک موریشس کے ادب میں جتنے بھی نسوانی کردار ہیں، میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ یہ کتاب اس خلا کو پر کرنے کی ایک سعی ہے۔ مجھے اس بات کی نہایت خوشی ہے کہ میری یہ کتاب موریشس کے اردو ادب میں اضافہ کرے گی اور میں اردو کی پہلی خاتون مصنفہ ہوں۔ اردو زبان سے میں بہت انسیت رکھتی ہوں اور اس زبان کی خدمت کرنا اپنا فرض عین سمجھتی ہوں۔ میں وزارت فنون و ثقافت اور خاص کر صدارتی فنڈ براۓ تخلیقی تحریر نویسی کی شکر گزار ہوں کہ ان کی معرفت مصنفہ بننے کا میرا خواب شرمندہ تعبیر ہورہا ہے۔ میں جناب سعید میاں جان کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور بڑی محنت اور خلوص سے اپنے نایاب مشوروں سے مجھے نوازا۔ میں ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے معتبر و ممتاز پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی رہنمائی اور سرپرستی کی احسان مند ہوں۔ نیز میں ریسرچ اسکالر محمد ثناء الله صاحب کی ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنے ایم فل کے مقابلے میں میری کتاب کو شامل کرکے مجھے عزت بخشی۔ بلآخر میں اردو کی مرہون منت ہوں کہ اس زبان نے مجھے منتخب کیا اور اپنی خدمت کا موقع دیا۔
![]()